مسقط: عمان میں سوشل میڈیا صارفین کے لیے سخت وارننگ جاری کردی گئی، نجی تصاویر یا چیٹس شیئر کرنے پر 3 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔تفصیلات کے مطابق عمان کی پبلک پراسیکیوشن نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے خلاف سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی شخص کی نجی تصاویر، ویڈیوز، گفتگو یا ذاتی معلومات اس کی اجازت کے بغیر شیئر کرنا قابلِ سزا جرم ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ عمان کے سائبر کرائم قانون کے تحت کسی شخص کی تصاویر یا ویڈیوز اس کی اجازت کے بغیر بنانا، ریکارڈ کرنا، محفوظ کرنا، کاپی کرنا، منتقل کرنا یا سوشل میڈیا پر شیئر کرنا جرم ہے۔پبلک پراسیکیوشن نے واضح کیا کہ کسی شخص کو نقصان پہنچانے کی نیت سے تصاویر، ویڈیوز، آڈیو کلپس، تبصرے یا دیگر معلومات آن لائن شائع کرنا بھی ممنوع ہے، چاہے وہ مواد حقیقی ہی کیوں نہ ہو۔حکام نے کہا کہ قانونی ذمہ داری "شیئر” کا بٹن دبانے سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، کیونکہ بظاہر معمولی آن لائن سرگرمی بھی سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔پبلک پراسیکیوشن نے متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک سے عمان آنے والے مسافروں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ملک کے سخت ڈیجیٹل پرائیویسی قوانین کا احترام کریں، کیونکہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔عمان کے رائل ڈکری 61/2026 کے تحت نافذ سائبر کرائم قانون کی دفعہ 36 کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کو 3 سال تک قید، 5 ہزار عمانی ریال تک جرمانہ، یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی کی نجی گفتگو یا کالز کو اجازت کے بغیر ریکارڈ کرنا، نشر کرنا یا افشا کرنا بھی جرم ہے اور اس پر بھی یہی سزائیں لاگو ہوں گی۔