ممتا بنرجی کی یوم شہدا ریلی کے اسٹیج پر توڑ پھوڑ کا معاملہ کلکتہ ہائی کورٹ پہنچ گیا، پولیس سے جواب طلب

Wait 5 sec.

کولکاتا: مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت والے ترنمول کانگریس دھڑے نے اپنی شہید دیوس ریلی کے لیے تیار کیے گئے اسٹیج پر مبینہ توڑ پھوڑ کے معاملے کو کلکتہ ہائی کورٹ میں اٹھایا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں کولکاتا پولیس سے وضاحت طلب کرتے ہوئے دوپہر تک جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔اس سے قبل ترنمول کانگریس کی جانب سے کلکتہ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس تاپ برت چکرورتی کے دفتر کو ایک ای میل بھیجی گئی تھی۔ اس میں الزام عائد کیا گیا کہ پیر کی رات بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنان نے ریلی کے اسٹیج کو نقصان پہنچایا اور انہیں پولیس انتظامیہ کی خفیہ مدد حاصل تھی۔منگل کی صبح عدالت کھلنے کے بعد جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی سنگل جج بنچ کے سامنے اس معاملے میں ایک عرضی دائر کی گئی۔ عرضی میں کہا گیا کہ اسٹیج پر توڑ پھوڑ دراصل عدالت کی توہین کے مترادف ہے، کیونکہ مذکورہ ریلی کے انعقاد کی اجازت گزشتہ ہفتے اسی بنچ نے دی تھی۔ عدالت کے حکم کے مطابق ریلی کا انعقاد وسطی کولکاتا میں برلا تارا منڈل کے سامنے ہونا تھا۔جو رہنما ٹی ایم سی چھوڑنا چاہتے ہیں وہ 21 جولائی سے پہلے فیصلہ کر لیں: ممتا بنرجیعرضی کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے کولکاتا پولیس سے اس واقعے پر تفصیلی وضاحت طلب کی۔ سماعت کے دوران انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ جب عدالت نے ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل کی موجودگی میں ریلی کے انعقاد کی اجازت دی تھی تو اس کے باوجود اس نوعیت کا واقعہ کیسے پیش آیا۔جسٹس بھٹاچاریہ نے یہ بھی یاد دلایا کہ عدالت نے کولکاتا پولیس کے جوائنٹ کمشنر کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ریلی کے دوران امن و امان کی صورتحال متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی واضح ہدایات کے باوجود اس طرح کے واقعات پیش آنا عدالتی نظام کے لیے باعث تشویش ہے۔کلکتہ ہائی کورٹ نے ممتا بنرجی کو ٹی ایم سی کے منجمد اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کی دی اجازت، لیکن شرطیں بھی عائددریں اثنا ممتا بنرجی نے الزام عائد کیا کہ پولیس انتظامیہ ان کی جماعت کی ریلی میں رکاوٹیں کھڑی کر کے عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے ساتھ کھلواڑ نہیں ہونا چاہیے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ریاستی حکومت اور پولیس انتظامیہ کے خلاف عدالت کی توہین کی عرضی دائر کی جائے گی۔قابل ذکر ہے کہ 21 جولائی کو مغربی بنگال میں شہید دیوس کے موقع پر تین مختلف ریلیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ دن 1993 میں اُس وقت کے لیفٹ فرنٹ حکومت کے دور میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے والے 13 یوتھ کانگریس کارکنان کی یاد میں منایا جاتا ہے۔