اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کی زبردست نعرے بازی کے درمیان لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

Wait 5 sec.

اپوزیشن کے زبردست ہنگامے اور نعرے بازی کے درمیان منگل کو لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ ایوان کی کارروائی بدھ کی صبح 11 بجے دوبارہ شروع ہوگی۔ منگل کو تیسری بار ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی، کیونکہ اپوزیشن کی جانب سے جاری ہنگامہ کم نہیں ہوا۔اسپیکر کی کرسی پر بیٹھے دلیپ سیکیا نے بار بار اراکین پارلیمنٹ سے اپنی نشستوں پر بیٹھنے، ایوان کا وقار برقرار رکھنے اور رول 377 کے تحت کارروائی چلنے دینے کی اپیل کی۔ تاہم اپوزیشن کے اراکین نے ان اپیلوں کو نظرانداز کیا اور ایوان کے وسط (ویل) میں ہنگامہ جاری رکھا۔ بالآخر، ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔اس سے قبل بار بار ہونے والے ہنگامے کی وجہ سے معمول کی کارروائی نہ چل پانے پر اسپیکر اوم برلا نے ایوان کو دوپہر تک کے لیے ملتوی کر دیا تھا۔ اراکین سے ایوان کی کارروائی چلنے دینے کی اپیل کرتے ہوئے اوم برلا نے کہا کہ ’’کیا آپ نہیں چاہتے کہ ایوان چلے؟ ہر ایک کو اپنی بات رکھنے کا موقع ملے گا۔‘‘ اپوزیشن نے اپنا احتجاج اور نعرے بازی جاری رکھی، جس سے کارروائی میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور بعد میں پہلی بار ایوان کو ملتوی کرنا پڑا۔دوپہر میں ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی، لیکن اس دوران بھی اپوزیشن اراکین کی مسلسل نعرے بازی اور احتجاج کے باعث کارروائی میں رکاوٹ پڑتی رہی۔ ایوان کی صدارت کر رہی سندھیا رائے نے اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ سے نظم و ضبط برقرار رکھنے کی بار بار اپیل کی، لیکن جب انہوں نے بات نہیں مانی تو ایوان کو ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ اسپیکر کی جانب سے کئی بار اپیل کیے جانے کے باوجود اپوزیشن کے اراکین نعرے بازی کرتے رہے، جس کی وجہ سے ایوان کو ایک بار پھر ملتوی کرنا پڑا۔ایوان کی آج کی صورتحال پیر کو مانسون سیشن کے پہلے دن ہوئے ہنگامے جیسی ہی تھی، جب بار بار کے التوا کے باعث پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی متاثر ہوئی تھی۔ اپوزیشن نے کئی مسائل پر بحث کے مطالبے کو لے کر احتجاجی مظاہرہ کیا، جن میں امتحانی پیپر لیک اور طلبہ کا احتجاج شامل تھا۔ ان وجوہات کی بنا پر پارلیمانی کام کاج میں بار بار رکاوٹ پڑی۔