سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کرنے کیلیے شرط رکھ دی

Wait 5 sec.

(22 جولائی 2026): بھارت میں سماجی کارکن سونم وانگچک نے نیٹ پیپر لیک کے خلاف اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کیلیے شرط رکھ دی۔انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق سونم وانگچک نے مرکزی وزرا جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے نام ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے ملاقات کرنے اور یہ یقین دہانی کروانے پر شکریہ ادا کیا کہ حکومت ان کے مطالبات پر غور کرے گی۔سونم وانگچک نے خط میں بتایا کہ گفتگو کے دوران وزرا نے اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ حکومت ان طلبہ کے خاندانوں کو مناسب معاوضہ دینے کے مطالبات پر مثبت انداز میں غور کرے گی جنہوں نے نیٹ پیپر لیک کے بعد خودکشی کی، اور ساتھ ہی جوابدہی یقینی بنانے کیلیے پارلیمنٹ میں بحث کروائے گی، جس میں تعلیم کی وزیر کے استعفے پر غور کرنا بھی شامل ہے۔یہ بھی پڑھیں: سوناکشی سنہا نے سونم وانگ چک کی حمایت میں آواز اٹھا دیسماجی کارکن نے خط میں لکھا کہ آپ کی آمد کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کے تقریباً 65 اراکین پارلیمنٹ نے مجھے خطوط لکھے ہیں، ان سب نے مجھ سے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے اور مجھے یاد دلایا ہے کہ مجھے اپنے ملک کی خدمت کیلیے ابھی بہت کام کرنا ہے۔خط میں انہوں نے لکھا کہ میں ان کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کیونکہ میں جینا چاہتا ہوں، میں اپنے طلبہ، تعلیم، اور اس کام کی طرف واپس لوٹنا چاہتا ہوں جو میری زندگی کا مقصد ہے۔سونم وانگچک نے خط میں لکھا کہ میں حکومت سے اس بات کی واضح یقین دہانی چاہتا ہوں کہ اس تحریک میں حصہ لینے پر کسی بھی نوجوان مظاہرین کو کسی انتقامی یا تادیبی قانونی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، ان کا واحد مقصد صرف ایک منصفانہ اور جوابدہ تعلیمی نظام کیلیے آواز اٹھانا رہا ہے۔’اگر ایسی یقین دہانی کروائی جاتی ہے تو میں اس اعتماد کے ساتھ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دوں گا کہ حکومت نے نہ صرف میری اپیل بلکہ لاکھوں نوجوانوں کی امنگوں کو بھی سنا ہے۔‘