دہلی ہائی کورٹ نے 20 جولائی کو ’پارلیمنٹ مارچ‘ کے دوران طلبہ اور نوجوانوں پر پولیس کی وحشیانہ کارروائی کے خلاف داخل عرضیوں پر مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کر جواب طلب کیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے واقعے سے منسلک تمام ویڈیوز بھی محفوظ رکھنے کو کہا ہے۔News Alert! High court asks Delhi Police, Centre to respond to pleas over use of "excessive" force on protesters during July 20 march to Parliament. pic.twitter.com/h0tznCrEMz— Press Trust of India (@PTI_News) July 22, 2026دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا کی بنچ نے ان 2 درخواستوں پر جواب طلب کیا ہے جن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ 20 جولائی کو ’پارلیمنٹ مارچ‘ کے دوران مظاہرین پر ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا گیا۔ بنچ نے افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس کی کارروائی سے متعلق تمام ضروری ریکارڈز کو محفوظ رکھیں، جس میں سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور دیگر ویڈیو گرافی بھی شامل ہیں۔Delhi High Court issues notice to the Centre and Delhi Police on PILs alleging excessive force during the July 20 protest. The Court also directs preservation of all CCTV footage, body camera footage and other digital records related to the incident as per the established SOPs.…— ANI (@ANI) July 22, 2026عرضی گزاروں کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکلاء این ہری ہرن، وکاس سنگھ اور گوپال شنکر نارائنن نے دلیل دی کہ پولیس نے مظاہرین پر (جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے) ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔ واقعے کی جانچ کی درخواست کرتے ہوئے سینئر وکلاء نے کہا کہ مظاہرین قومی اہلیت و داخلہ ٹیسٹ (نیٹ) میں بے ضابطگیوں کے خلاف پرامن احتجاج کے اپنے بنیادی حق کا استعمال کر رہے تھے۔ ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ایس وی راجو نے کہا کہ یہ عرضیاں سوشل میڈیا پوسٹس پر مبنی ہیں اور سماعت کے قابل نہیں ہیں۔VIDEO | Informing about the Delhi High Court hearing on plea against the police action on protesters at Jantar Mantar in Delhi, senior advocate Vikas Singh says, "So, the one of the petition in which I appeared was filed by a lawyer who was present at the site. So, he was a… pic.twitter.com/xFe2y2vhGS— Press Trust of India (@PTI_News) July 22, 2026’نیٹ کو مکمل طور پر ختم کیا جائے‘، طلبہ کے احتجاج کے درمیان وزیر اعلیٰ وجے کا مرکزی حکومت سے اہم مطالبہتمام کے دلائل سننے کے بعد بنچ نے مفاد عامہ کی عرضیوں (پی آئی ایل) پر نوٹس جاری کرتے ہوئے افسران کو جوابی حلف نامہ داخل کرنے کے لیے 4 ہفتوں کا وقت دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ’’مدعا علیہان کی طرف سے 4 ہفتوں کے اندر جواب داخل کیا جائے۔‘‘‘ عدالت نے مزید کہا کہ ’’اس دوران ہم ہدایت دیتے ہیں کہ رٹ درخواستوں میں بتائے گئے واقعے سے متعلق ضروری ریکارڈز (جس میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیو گرافی شامل ہے) دہلی پولیس یا حکومت ہند کے معیاری طریقہ کار (ایس او پی) کے مطابق محفوظ رکھے جائیں۔ اس معاملے کی آئندہ سماعت 11 ستمبر کو ہوگی۔‘‘