غزہ : مائیں پانی کی تلاش میں کئی کلومیٹر پیدل چلنے پر مجبور

Wait 5 sec.

غزہ میں جاری اسرائیلی فوج کے محاصرے اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث پانی اور غذا کا بحران انتہائی سنگین صورت اختیار کرچکا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق لاکھوں بے گھر فلسطینی پینے کے صاف پانی، خوراک اور ادویات جیسی بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔صاف پانی کی تلاش میں مائیں روزانہ میلوں پیدل چلنے پر مجبور ہیں، موجودہ صورتحال کے سبب بچوں اور بڑوں میں جلدی امراض اور اسہال کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔اقوام متحدہ، امدادی اداروں اور فلسطینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو اس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔غزہ شہر کے ساحلی علاقے میں رہنے والی 40 سالہ ابتسام الحلو ہر روز طلوعِ آفتاب سے پہلے اپنے خیمے سے صاف پانی کی تلاش میں نکلتی ہیں۔سمندر چند قدم کے فاصلے پر ہونے کے باوجود پینے، کھانا پکانے اور روزمرہ استعمال کے لیے صاف پانی دستیاب نہیں، جس کے باعث انہیں شہر کے مختلف علاقوں تک پیدل جانا پڑتا ہے۔ابتسام کے مطابق ان کے علاقے میں ہر تین دن بعد محدود مقدار میں پانی آتا ہے، جبکہ اکثر انہیں پانی حاصل کرنے کے لیے کئی کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت نے روزمرہ زندگی کو انتہائی دشوار بنا دیا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی نصف سے زائد آبادی، یعنی تقریباً 13 لاکھ افراد، روزانہ 6 لیٹر سے بھی کم پانی پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ میڈیسنز سان فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں فی فرد اوسط پانی صرف 4.3 لیٹر روزانہ رہ گیا ہے۔ جنگ سے قبل یہی مقدار تقریباً 85لیٹر فی فرد یومیہ تھی۔ماہرین کے مطابق پانی کی شدید قلت کے باعث لوگ نہانے اور کپڑے دھونے کے لیے کھارا یا غیر محفوظ پانی استعمال کر رہے ہیں، جبکہ سینکڑوں ہزاروں سیپٹک ٹینکوں کا غیر صاف شدہ فضلہ زیرِ زمین آبی ذخائر میں شامل ہو رہا ہے، جس سے پانی مزید آلودہ ہو رہا ہے۔ابتسام الحلو کا کہنا ہے کہ گرمی سے بچنے کے لیے ان کے بچے سمندر میں نہاتے ہیں، لیکن اس کے بعد انہیں خارش، جلدی الرجی اور خارش جیسی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن کے علاج پر اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ادھر امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پانی کی فراہمی کرنے والے ٹینکرز کو تباہ شدہ سڑکوں اور ملبے کے باعث متاثرہ آبادی تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ سے قبل غزہ میں تقریباً 320 پانی کے کنویں فعال تھے، تاہم اب ان میں سے 100 سے بھی کم کام کر رہے ہیں۔وزارت کا کہنا ہے کہ پانی کی ترسیل کے تقریباً 80 فیصد نیٹ ورک اور بیشتر ڈی سیلینیشن پلانٹس اسرائیلی حملوں میں تباہ یا شدید متاثر ہو چکے ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اس کے برعکس مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جان بوجھ کر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہیں بناتی۔اسرائیلی ادارے سی او جی اے ٹی کے مطابق بین الاقوامی تنظیموں کے تعاون سے غزہ میں پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔