نئی دہلی: طلبہ پر پولیس کارروائی، پیپر لیک کے معاملات اور تعلیمی نظام سے متعلق مطالبات کو لے کر وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے قریب کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج نے منگل کو سیاسی طور پر اہم رخ اختیار کر لیا۔ دہلی پولیس نے احتجاج کے دوران لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو سمیت متعدد اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔کانگریس کے مطابق راہل گاندھی، ملکارجن کھڑگے، پرینکا گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنما طلبہ کے حق میں پُرامن دھرنے پر بیٹھے تھے اور حکومت سے پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بحث، مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے اور احتجاج کے دوران ہونے والی زیادتیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے تھے۔راہل گاندھی کو حراست میں لیے جانے کے بعد کانگریس نے ان کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک ویڈیو میں میڈیا نمائندوں کے سوالات کے جواب میں راہل گاندھی نے کہا، ’’موجودہ دور میں ہندوستان میں جمہوریت کا یہ حال ہے۔‘‘ کانگریس نے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’مودی کے دور میں جمہوریت کچھ ایسی دکھائی دیتی ہے۔‘‘کانگریس کے میڈیا و محکمۂ تشہیر کے سربراہ پون کھیڑا نے الزام عائد کیا کہ پولیس یہ بتانے کو تیار نہیں کہ راہل گاندھی کو کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت کے طرز عمل کو غیر جمہوری قرار دیا۔ادھر کانگریس کے سینئر رہنما رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ یہ احتجاج کا اختتام نہیں بلکہ راہل گاندھی کی قیادت میں ایک نئی جدوجہد کا آغاز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ان لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں جواب دینا ہوگا جو پیپر لیک کے واقعات سے متاثر ہوئے ہیں۔پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت خوف زدہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم ان سے نہیں ڈرتے، وہ ہم سے ڈرتے ہیں۔‘‘ کانگریس نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی راہل گاندھی سے خوفزدہ ہیں، اسی لیے اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے راہل گاندھی کی حراست کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مودی حکومت کو ’تاناشاہ حکومت‘ قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے تعلیمی نظام کو تباہ کیا، پیپر لیک کے متعدد واقعات کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں کی اور انصاف کا مطالبہ کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج کروایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں بحث کرانے کے مطالبے کو بھی نظر انداز کیا گیا اور اب اپوزیشن کے منتخب نمائندوں کو گھسیٹ کر حراست میں لیا جا رہا ہے۔دوسری جانب، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کی احتجاج میں شمولیت نے اس معاملے کو وسیع تر اپوزیشن حمایت فراہم کر دی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ طلبہ کے مسائل اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔