بھارت میں طلبہ تحریک : امتحانی اسکینڈل نے کس طرح بغاوت کو جنم دیا؟

Wait 5 sec.

نئی دہلی : بھارت میں میڈیکل کالجوں کے داخلہ کیلیے امتحانی پرچہ لیک ہونے کے اسکینڈل نے ملک بھر کے طلبہ کی نظام سے بغاوت نے بڑی تحریک کی شکل اختیار کرلی جس کی شدت کے نتیجے میں بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوگئے ہیں۔کاکروچ جنتا پارٹی کا یہ تاریخی احتجاج مودی حکومت کے تیسرے دورِ اقتدار کا سب سے بڑا عوامی اور نوجوانوں کیلیے چیلنج بن چکا ہے۔ملک کے سب سے بڑے امتحان نیشنل ایلیجیبلیٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (این ای ای ٹی) کے پیپر لیک اسکینڈل نے نہ صرف لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا بلکہ اس نے ملک بھر میں ایک کامیاب اور طاقتور طلبہ تحریک کو بھی جنم دیا۔پیپر لیک کے بعد امتحان دوبارہ لینے کے فیصلے نے کئی امیدواروں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کردیا تھا، جبکہ متعدد خاندانوں کا کہنا ہے کہ اسی دباؤ کے باعث ان کے بچوں نے اپنی جانیں لے لیں۔طالبہ کی موت کے بعد کیا ہوا؟ 19سالہ شیخ ثنا ان طلبہ میں شامل تھیں جنہوں نے مئی میں ہونے والا نیٹ امتحان دیا تھا، تاہم جب پیپر لیک سامنے آیا اور امتحان دوبارہ لینے کا اعلان کیا گیا تو وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئیں، اہل خانہ کے مطابق امتحان سے ایک روز قبل انہوں نے ایک سادہ کاغذ پر صرف "آئی ایم سوری” لکھا اور خودکشی کرلی۔ان کے والد شیخ جعفر حسین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو دوبارہ امتحان دینے کا خوف اندر ہی اندر کھاتا رہا، ان کے بقول میری بیٹی کو کسی بیماری نے نہیں بلکہ ری نیٹ کے خوف نے مار دیا۔شیخ ثنا کی موت کے بعد ایسے دیگر طلبہ کے خاندان بھی سامنے آئے جنہوں نے امتحان منسوخ ہونے اور دوبارہ امتحان کے اعلان کے بعد اپنے بچوں کی خودکشی کو نظام کی ناکامی قرار دیا۔اگرچہ پولیس نے ان تمام اموات کو خودکشی قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں، تاہم حکام نے ابھی تک ان اموات کی وجہ پر کوئی حتمی مؤقف اختیار نہیں کیا۔لاکھوں طلبہ متاثرنیٹ امتحان بھارت میں میڈیکل کالجوں میں داخلے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، رواں برس تقریباً 20 لاکھ طلبہ نے یہ امتحان دیا، لیکن پیپر لیک کے انکشاف کے بعد حکومت نے نتائج روک کر جون میں دوبارہ امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے نے لاکھوں طلبہ کو ایک بار پھر شدید ذہنی دباؤ، غیر یقینی صورتحال اور طویل تیاری کے مرحلے میں دھکیل دیا۔تحقیقات کے دوران بھارت کے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے انکشاف کیا کہ نجی کوچنگ سینٹرز سے وابستہ بعض اساتذہ اور ایجنٹس امتحانی پرچے فروخت کرنے میں ملوث تھے، اب تک ایک ڈاکٹر اور کئی اساتذہ سمیت 13 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔حکومت مشکل میں پڑ گئیتقریباًگزشتہ 2ماہ سے جاری احتجاج اب صرف پیپر لیک تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ بھارت کے تعلیمی نظام، بے روزگاری، مواقع کی کمی اور حکومتی جوابدہی کے خلاف ایک وسیع تحریک میں تبدیل ہوچکا ہے۔دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں طلبہ مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں، حالیہ احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا بھی استعمال کیا۔احتجاج میں شدت آنے کے بعد ہفتہ کے روز بھارتی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفے کے اعلان میں انہوں نے کہا کہ وہ ملک کے نوجوانوں کی خواہشات اور جائز توقعات کا احترام کرتے ہیں۔نریندر مودی کا ردعملبھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پیپر لیک کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین کے لیے یہ ایک تکلیف دہ معاملہ ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس جرم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہوگی اور مقدمات کو فاسٹ ٹریک عدالتوں میں چلایا جائے گا۔تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کو صرف مجرموں کو گرفتار کرنے کے بجائے پورے امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔اپوزیشن کا سخت مؤقفکانگریس رہنما راہول گاندھی نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک میں 150 سے زائد امتحانی پیپر لیک کے واقعات پیش آچکے ہیں لیکن کسی کو مؤثر سزا نہیں ملی۔طلبہ تحریک کی قیادت کرنے والی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا دعویٰ ہے کہ نیٹ اسکینڈل سے منسلک ذہنی دباؤ کے باعث 21 طلبہ نے خودکشی کی، تاہم اس دعوے کی تاحال آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔تعلیم، بے روزگاری اور خواببھارت میں ڈاکٹر بننا لاکھوں نوجوانوں کا خواب ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نیٹ امتحان دینے والے صرف تقریباً 6 فیصد طلبہ کو ہی میڈیکل کالج میں داخلہ مل پاتا ہے۔دوسری جانب نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بھی تقریباً 9.9 فیصد ہے، جس کے باعث پیشہ ورانہ تعلیم کو محفوظ مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔بہت سے خاندان اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے زمینیں فروخت کرتے ہیں یا بھاری قرض لیتے ہیں۔ راجستھان کے کسان راجیش کمار نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی تیاری کے لیے 28 لاکھ روپے مالیت کی زمین فروخت کی اور 11 لاکھ روپے کا بینک قرض لیا مگر امتحان منسوخ ہونے کے بعد ان کے بیٹے نے خودکشی کرلی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی مالی امداد کے خواہش مند نہیں بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اس پورے معاملے کے ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے۔تعلیمی ماہرین کیا کہتے ہیں؟تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ احتجاج صرف ایک امتحان کے خلاف نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام میں بڑھتے ہوئے دباؤ، مہنگے کوچنگ کلچر، محدود مواقع اور نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی کا اظہار ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مودی حکومت ماضی میں بھی بڑے احتجاجی مظاہروں کا سامنا کرچکی ہے، لیکن اس بار معاملہ براہ راست نوجوان نسل اور ان کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس کے سیاسی اثرات زیادہ گہرے ہوسکتے ہیں۔طلبہ تنظیموں کا مطالبہ طلبہ تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ امتحانی نظام کو شفاف بنایا جائے، پیپر لیک میں ملوث تمام عناصر کو سخت سزا دی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر تعلیمی اصلاحات نہ کی گئیں تو ایسے سانحات دوبارہ جنم لیتے رہیں گے اور نوجوانوں کا نظام پر اعتماد مزید کمزور ہوتا جائے گا۔دھرمیندر کا استعفیٰ ہوگیا، ہماری دو اور مانگیں ہیں، کاکروچ ہیں ایسے نہیں جائیں گے: ابھیجیت دیپکے