’جھکتی ہے دنیا، جھکانے والا چاہیے‘، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر کس نے کیا کہا؟

Wait 5 sec.

مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد جہاں طلبا و نوجوان طبقہ جشن میں ڈوب گیا ہے، وہیں اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کا رد عمل بھی آنے شروع ہو گئے ہیں۔ کانگریس، سماجوادی پارٹی، عآپ سمیت کئی پارٹیوں کے لیڈران نے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کو جین-زی کی فتح قرار دیا اور مودی حکومت کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ اس کا گھمنڈ اب چکناچور ہو چکا ہے۔ کانگریس نے تو اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر راہل گاندھی کی کچھ ویڈیوز کا کولاز شیئر کیا ہے، جس میں وہ کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا ہی ہوگا۔ اس ویڈیو کے ساتھ کانگریس نے کیپشن لگایا ہے ’جھکتی ہے دنیا، جھکانے والا چاہیے‘۔ آئیے ذیل میں دیکھتے ہیں کہ اپوزیشن پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران نے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر کیا رد عمل ظاہر کیا۔झुकती है दुनिया, झुकाने वाला चाहिए pic.twitter.com/6BDKgXzGzd— Congress (@INCIndia) July 25, 2026راہل گاندھی (کانگریس):دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ہمارے تعلیمی نظام کو پھر سے سنوارنے کی سمت میں بہت بڑا قدم ہے۔ شاباش ملک بھر کے طلبا، آپ سبھی پر فخر ہے۔ سڑکوں پر آ کر جمہوریت، آئین اور اپنے مستقبل کی حفاظت میں ڈٹ کر کھڑے ہونے والے ہر ایک نوجوان، ہر طلبا کو بہت بہت مبارکباد۔2 مطالبات اب بھی باقی ہیں۔ وزیر اعظم طلبا اور ہندوستان کے مستقبل کو احترام دیتے ہوئے معافی مانگیں اور طلبا پر تشدد کے قصورواروں پر کارروائی ہو۔یہ سماج کے دوسرے طبقات کسانوں، مزدوروں، غریبوں، ہر وہ شخص جسے اس حکومت نے دبایا ہے، کچلا ہے… کے لیے مثال ہے۔ اپنے وقار کے لیے آئینی طریقے سے ڈٹ کر کھڑے ہونے میں ہی اصل ہمت ہے۔ اس حکومت کو ہٹانے کا وقت آ گیا ہے۔ ڈرو مت!धर्मेंद्र प्रधान का इस्तीफा हमारे education system को फिर से संवारने की दिशा में बहुत बड़ा कदम है। शाबाश देश भर के छात्रों, आप सभी पर गर्व है।सड़कों पर आ कर लोकतंत्र, संविधान और अपने भविष्य की रक्षा में डट कर खड़े होने वाले हर एक युवा, हर छात्र को बहुत-बहुत बधाई।2 मांगें… pic.twitter.com/Uc2cEOCVKA— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) July 25, 2026سپریا سولے (این سی پی-ایس پی):وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ امن سے مظاہرہ کرنے والوں، طلبا و اپوزیشن کے لگاتار دباؤ کے بعد آیا ہے۔ میں ہر اس مظاہرین کو مبارکباد دیتی ہوں، جو نیٹ-یوجی مسئلہ پر ڈٹے رہے۔ لیکن یہ اختتام نہیں ہو سکتا، ہم اصل جوابدہی، بڑے پیمانے پر تعلیم میں اصلاح اور پارلیمنٹ میں نیٹ معاملہ پر تفصیلی بحث کا مطالبہ کرتے ہیں۔The resignation of Education Minister Dharmendra Pradhan comes only after sustained pressure from peaceful protesters, students, and the Opposition. I congratulate every protester who stood firm on the #NEETUG issue. But this cannot be the end, we demand real accountability,…— Supriya Sule (@supriya_sule) July 25, 2026ششی تھرور (کانگریس):وزیر تعلیم کا استعفیٰ اس بات کا اعتراف ہے کہ جمہوریت میں جوابدہی سے ہمیشہ کے لیے بچا نہیں جا سکتا۔ یہ ملک بھر کے طلبا، سرپرست اور شہریوں کی کئی ہفتوں سے پختہ ارادہ اور امن سے اٹھائی گئی آوازوں کے بعد آیا ہے، جنھوں نے نظر انداز ہونے سے منع کر دیا تھا۔The resignation of the Education Minister is an acknowledgment that accountability in a democracy cannot be indefinitely evaded. It comes after weeks of determined, peaceful voices raised by students, parents and citizens across the country who refused to be ignored.It also… https://t.co/3KkcRX5MBo— Shashi Tharoor (@ShashiTharoor) July 25, 2026