(26 جولائی 2026): صدر احمد الشرع نے انکشاف کیا ہے کہ شام کئی ممالک کی شرکت سے اسرائیل کے ساتھ ایک سکیورٹی معاہدہ کرنے کیلیے سرگرم عمل ہے۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں شامی صدر احمد الشرع نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اسرائیل کے ساتھ یہ سکیورٹی معاہدہ ایک جامع امن کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، اس طرح کا کوئی بھی معاہدہ گولان کی پہاڑیوں پر شام کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، جن پر اسرائیل نے 1973 سے غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔احمد الشرع نے کہا کہ شام اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تصادم سے گریز کر رہا ہے۔شام کا لبنان میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیںشامی صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ شام کا پڑوسی ملک لبنان میں کسی بھی قسم کی عسکری مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ شامی حکومت اس وقت ایسے طریقوں پر غور کر رہی ہے جن کے ذریعے لبنانی حکام ملک کو اس کے موجودہ بحران سے نکالنے اور اسے سلامتی کی طرف گامزن کرنے میں مدد کر سکیں۔جنوبی لبنان اس وقت اسرائیل کے قبضے میں ہے جو کہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان مہینوں کی لڑائی کے تناظر میں ہے۔احمد الشرع نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کے بحران سے نمٹنے کیلیے صرف ایک سکیورٹی اپروچ کی نہیں بلکہ ایک ایسے جامع حل کی ضرورت ہے جو متعدد مسائل کو حل کرے۔