نئی دہلی: طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس زیادتی کے معاملے پر اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں مرکزی حکومت کو سختی سے گھیرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس کی قیادت میں انڈیا اتحاد حکومت سے نہ صرف اس واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی سے طلبہ سے معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کرے گا۔ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی اور لوک پریکشا (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل 2026 کے بارے میں حتمی موقف پیر کی صبح راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے کے کمرے میں ہونے والی انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں طے کیا جائے گا۔لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھ کر پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر بربریت کے لیے جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خط میں سوال اٹھایا کہ طلبہ کے خلاف پیلٹ گن سمیت "مہلک طاقت" کے استعمال کی منظوری کس نے دی تھی، اور کیا اس کی اجازت خود وزیر داخلہ نے دی تھی۔راہل گاندھی نے اپنے خط میں کہا کہ پرامن احتجاج کسی بھی جمہوری نظام کا بنیادی حق ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظاہرین کی حفاظت کرے اور بات چیت کے ذریعے ان کے مطالبات کا حل تلاش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے خلاف تشدد نے تمام حدیں پار کر دی ہیں اور پورا ملک اس پر غم و غصے کا اظہار کر رہا ہے۔کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے بھی راہل گاندھی کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے امت شاہ سے دو اہم سوالات کے جواب مانگے ہیں۔ ان کے مطابق پہلا سوال یہ ہے کہ اگر وزیر داخلہ نے پیلٹ گن کے استعمال کی منظوری نہیں دی تو پھر یہ فیصلہ کس نے کیا؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ سادہ لباس میں طلبہ پر لاٹھیاں برساتے ہوئے جو افراد ویڈیوز میں نظر آ رہے ہیں، آیا وہ پولیس اہلکار تھے یا رضاکار، اور ان کی تعیناتی کس کی اجازت سے ہوئی۔جے رام رمیش نے کہا کہ وزیر داخلہ کو پارلیمنٹ میں ان سوالات کا واضح جواب دینا چاہیے، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی کو طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے۔ادھر کانگریس نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو طلبہ کی تحریک کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب وزیر اعظم کی بھی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ طلبہ سے معافی مانگیں اور احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ملکارجن کھڑگے نے بھی کہا کہ دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد اب اگلا قدم وزیر اعظم کی معافی اور طلبہ کے خلاف لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کے استعمال میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہونا چاہیے۔دوسری جانب اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری تعطل ختم ہو جاتا ہے تو پارلیمنٹ میں سوالیہ پرچہ لیک کے مسئلے پر سخت بحث متوقع ہے۔ حکومت پیر کو لوک پریکشا (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل 2026 پیش کرے گی، جس میں پرچہ لیک یا امتحانات میں دھاندلی کے مرتکب افراد کے لیے کم از کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ منظم جرائم کے معاملات میں سزا سات سال سے دس سال تک قید اور 10 کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکتی ہے۔اپوزیشن نے ابھی تک اس بل کی حمایت یا مخالفت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔ راہل گاندھی نے واضح کیا ہے کہ کانگریس اس معاملے پر اکیلے فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ انڈیا اتحاد کے تمام شراکت داروں کی مشاورت سے مشترکہ موقف اختیار کیا جائے گا۔ تاہم یہ طے ہے کہ طلبہ کے احتجاج، پولیس کارروائی اور امتحانی نظام میں اصلاحات کا معاملہ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس کا اہم ترین موضوع بننے جا رہا ہے۔