نئی دہلی : بھارت کے متعدد نامور ٹی وی چینلز جنہیں گودی میڈیا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے رپورٹرز کو کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔گودی میڈیا ہائے ہائے، گودی میڈیا مردہ باد، یہ وہ نعرے ہیں جو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کرنے والے طلبہ نے اس وقت لگائے جب حکمران جماعت کے حامی نیوز چینلز کے نمائندے وہاں رپورٹنگ کرنے پہنچے۔گودی میڈیا کیا ہے؟ یہ اصطلاح کہاں سے آئی؟گودی میڈیا ایک ایسی اصطلاح ہے جو بھارت میں ان صحافیوں اور خبر رساں اداروں کے لیے بطور طنز استعمال کی جاتی ہے جو نریندر مودی اور بی جے پی حکومت کی اندھی حمایت کرتے ہیں۔اس اصطلاح کا آغاز بھی مودی کے دور اقتدار سے ہی ہوا ہے، گودی میڈیا کے خلاف بھارت میں عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔معروف بھارتی صحافی اور ریمن میگسیسے ایوارڈ یافتہ رویش کمار کو "گودی میڈیا” کی اصطلاح مقبول بنانے کا سہرا دیا جاتا ہے۔ان کے مطابق بعض ٹی وی چینلز حکومت پر تنقیدی سوال اٹھانے کے بجائے حکومتی مؤقف کو فروغ دیتے ہیں، اپوزیشن کو منفی انداز میں پیش کرتے ہیں اور اختلافی آوازوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں کیا ہوا؟ کاکروچ جنتا پارٹی کے حکومت مخالف احتجاج کے دوران ان ٹی وی رپورٹرز کو ہراساں کیا گیا، جبکہ ایک صحافی پر مبینہ طور پر حملہ بھی کیا گیا۔مظاہرین نے متعدد مرکزی اور نامور ٹی وی چینلز پر حکومت نواز رپورٹنگ کا الزام عائد کیا، مظاہرے میں گودی میڈیا کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے گئے اور ان کے نمائندوں سے بات کرنے میں بھی عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا۔https://urdu.arynews.tv/wp-content/uploads/2026/07/reporter-VDO.mp4رپورٹس کے مطابق ٹائمز ناؤ کے رپورٹر دیو کوٹک جب نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کی کوریج کے لیے پہنچے تو ان کا منصوبہ صرف لائیو رپورٹنگ کرکے واپس جانے کا تھا، لیکن احتجاج کے دوران مشتعل افراد نے انہیں گھیر لیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین ’گودی میڈیا‘ کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں جبکہ اس موقع پر رپورٹر پر تشدد بھی کیا گیا۔دیو کوٹک نے رائٹرز کو بتایا کہ انہیں تھپڑ، گھونسے اور لاتیں ماری گئیں جبکہ ان پر پانی کی بوتلیں بھی پھینکی گئیں، ان کے بقول انہیں اپنی جان کا خوف تک محسوس ہونے لگا تھا۔انہوں نے کہا کہ مظاہرین مسلسل یہ الزام عائد کر رہے تھے کہ قومی ٹی وی چینلز ان کے مؤقف کو نشر نہیں کرتے، حالانکہ ان کے مطابق انہوں نے پولیس اور مظاہرین دونوں کے زخمی ہونے کی خبریں نشر کی تھیں۔میڈیا پر عدم اعتماد کیوں؟اس احتجاج کے دوران صرف ایک چینل ہی نہیں بلکہ بھارت کے تقریباً تمام بڑے ٹی وی نیوز چینلز کے رپورٹرز کو شدید عوامی مخالفت، نعرے بازی اور بدزبانی کا سامنا کرنا پڑا۔مظاہرین کا الزام ہے کہ مرکزی دھارے کا میڈیا حکومت کے مؤقف کو زیادہ اہمیت دیتا ہے جبکہ عوامی مسائل اور حکومت پر تنقید کو مناسب جگہ نہیں ملتی۔اسی تناظر میں ’گودی میڈیا‘ کی اصطلاح ایک بار پھر زیر بحث آگئی، جو بھارتی صحافت میں ان اداروں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جنہیں ناقدین حکومت کا حامی قرار دیتے ہیں۔اس واقعے نے بھارت میں میڈیا کی آزادی اور غیرجانبدارانہ صحافت کے حوالے سے جاری بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کی عالمی پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں بھارت کی درجہ بندی نمایاں طور پر نیچے آئی ہے۔ 2010 میں بھارت 122 ویں نمبر پر تھا، جبکہ 2026میں اس کی پوزیشن 180 ممالک میں 157 ویں نمبر پر پہنچ گئی۔تنظیم کے مطابق صحافیوں پر تشدد، میڈیا کی ملکیت کا مخصوص کاروباری گروپوں تک محدود ہونا اور بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم اس تنزلی کی اہم وجوہات ہیں۔ایڈیٹرز گلڈ اور صحافیوں کا ردعملاس کے علاوہ ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے صحافیوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی میڈیا نمائندے کو تشدد کا نشانہ بنانا قابل قبول نہیں۔تاہم گلڈ نے یہ بھی کہا کہ اگر صحافت جانبدارانہ یا غیر متوازن ہو تو اس عمل سے نہ صرف حالات مزید خراب ہوتے ہیں بلکہ جمہوری نظام میں میڈیا پر عوام کا اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔احتجاجی قیادت کا مؤقفمطاہروں کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترجمان دیپک بالیان نے کہا کہ منتظمین نے بارہا مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی ہرگز نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ ہر صحافی کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کرنے کا حق حاصل ہے اور کسی کے ساتھ بھی تشدد نہیں ہونا چاہیے۔دوسری جانب میڈیا تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں روایتی ٹی وی چینلز پر عوام کے اعتماد میں کمی کے باعث بڑی تعداد میں ناظرین آزاد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور یوٹیوب چینلز کی طرف منتقل ہوئے ہیں۔