ایران کا آپریشن نصر 2 میں 200 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

Wait 5 sec.

تہران (26 جولائی 2026): ایران کے پاسدران انقلاب نے آپریشن نصر 2 میں 200 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ترجمان پاسداران انقلاب جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ امریکا نے اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد ایران کے ردِعمل میں امریکا کے 200 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے، جب کہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔تسنیم نیوز ایجنسی کو ایک خصوصی انٹرویو میں جنرل حسین محبی نے حالیہ حملوں میں امریکی جانی نقصان سے متعلق واشنگٹن کے اعداد و شمار کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا۔ محبی نے کہا ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں امریکی اعداد و شمار سراسر جھوٹ ہیں، امریکی اہداف پر حملوں کے دوران ایران نے فوجیوں کی تعیناتی کے 8 مراکز کو نشانہ بنایا، اور ایک مقام پر ہی 20 پناہ گاہیں تباہ کر دی گئیں۔انھوں نے کہا امریکی عوام کو اپنے جھوٹے کمانڈروں کو یہ سمجھنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ بے وقوف ہیں، امریکی حکومت کو چاہیے کہ وہ صحافیوں کو تباہ شدہ امریکی مراکز کا معائنہ کرنے کی اجازت دے تاکہ وہ اندازہ لگا سکیں کہ کتنے امریکی اہلکار مارے گئے۔ایران نے امریکا کے متعدد جنگی طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کر دیایہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوج مسلسل تیرہ راتوں سے ایران پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے تھی، جن میں شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جسے انھوں نے کھلی جنگی جارحیت اور جنگی جرم قرار دیا۔ اس کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے مغربی ایشیا میں امریکی اسٹریٹجک اہداف پر شدید جوابی حملے کیے۔ترجمان پاسداران جنرل محبی نے کہا کہ اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کی تو اسے شدید تباہی کا سامنا ہوگا، اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ آپریشن نصر دوم گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکی حملوں کے خلاف ایران کا دفاعی آپریشن ہے۔