خاتون پہلوان ونیش پھوگاٹ نے مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد اپنا ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک نے ہمیں دکھایا کہ ملک کی روح اب بھی بیدار ہے۔ وہ مانتی ہیں کہ نوجوان صرف ہجوم کا حصہ نہیں ہیں۔ وہ قوت ہیں جو مستقبل کی سمت کا تعین کرتی ہیں۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مزید لکھا، "سڑکوں پر کھڑے بچوں نے ہمیں ہمت کا صحیح مطلب سکھایا۔ ان کے ہاتھوں میں پھول اور دل میں آئین پر یقین تھا۔ انہیں ڈرانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ سب سے بلند آواز بن کر ابھرے، ان پر لاٹھی چارج کیا گیا، لیکن انہوں نے امید نہیں چھوڑی۔" pic.twitter.com/RDEvW2LUxF— Vinesh Phogat (@Phogat_Vinesh) July 25, 2026انہوں نے مزید لکھا، "ہر وہ دن جب انصاف کے مطالبے کو دبانے کی کوشش کی گئی، اس نسل کو خاموش رہنے سے انکار کرنے پر یاد رکھا جائے گا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ جدوجہد رائیگاں نہیں گئی۔" جمہوریت جیت گئی ہے اور خوف ہار گیا ہے۔اس سے قبل، انہوں نے جنتر منتر پر نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی پر بھی ردعمل ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائی پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا، "جنتر منتر پر طلباء جمہوری طریقے سے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے تھے۔ لیکن 20 جولائی کو وہاں سے جو تصاویر سامنے آئیں اس نے مجھے پریشان کر دیا۔"انہوں نے مزید کہا کہ "جب ملک کی طالبات اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر تھیں تو انہیں عزت کی بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ طاقت کی آڑ میں طالبات کی عزتیں پامال کی گئیں۔ ان کے ساتھ بے حسی کی تمام حدیں پار کر دی گئیں۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس لڑائی میں پورا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ پھوگاٹ نے جیت پر اعتماد کا اظہار کیا اور مظاہرین پر زور دیا کہ وہ عدم تشدد کا راستہ نہ چھوڑیں۔