تہران (26 جولائی 2026): ایران نے کہا ہے کہ بحیرۂ کیسپین میں ایک تجارتی جہاز کو یوکرین نے حملہ کر کے نقصان پہنچایا ہے۔روئٹرز کے مطابق ایران کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز دریائے خزر (بحیرۂ کیسپین/بحیرۂ قزوین) میں ایک ایرانی تجارتی جہاز پر یوکرین کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کے نتیجے میں ہونے والے دھماکے میں ایک ملاح ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے۔یوکرین کی جنگ کے دوران کیف کو ماسکو کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ایران میں تیار کردہ ڈرونز کا مسلسل مقابلہ کرنا پڑا ہے۔ کیف نے مشرقِ وسطیٰ کے ان ممالک کو، جو ایران کے حملوں کا نشانہ بنے ہیں، ڈرون روکنے کی اپنی مہارت فراہم کرنے کی پیش کش بھی کی ہے۔تہران نے اپنے تجارتی جہاز پر ہونے والے اس حملے کو ’’جارحیت کا اقدام‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی کا دفاع کرے گا۔ اس نے یوکرین پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ یوکرین کی جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ نے تہران میں یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کر کے اس حملے پر، جسے ایران نے ’’دشمنانہ اور مجرمانہ‘‘ قرار دیا، اپنا باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔یوکرینی صدر زیلنسکیایران کی جانب سے یہ مذمت ایسے وقت میں سامنے آئی جب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ کیف نے مشاہدہ کیا ہے کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں اپنی سیٹلائٹ نگرانی سے حاصل ہونے والی معلومات ایران کو فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ خطے میں حملوں کی رہنمائی کر سکے۔ہم نے ایران میں حملے نہیں کیے، کویتزیلنسکی اس سے قبل کہہ چکے تھے کہ یوکرین کی افواج نے بحیرۂ کیسپین میں ایک روسی جنگی جہاز اور ایسے جہازوں کو نشانہ بنایا ہے جو ایران سے منسلک فوجی سازوسامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں یوکرینی صدر نے کہا کہ جولائی کے آغاز سے اب تک کیف نے خلیجی ممالک اور وہاں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر روس کی فعال سیٹلائٹ نگرانی ریکارڈ کی ہے۔ ان کے بقول یہ تصاویر بعد میں ایران تک پہنچ جاتی ہیں۔عباس عراقچیایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور یورپی یونین کے نمائندے کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں ایرانی جہاز پر یوکرینی حملے سمیت خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔عباس عراقچی نے ایرانی تجارتی جہاز پر حملے کی شدید مذمت کی اور عالمی برادری سے فیصلہ کن ردعمل کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ تجارتی جہاز پر حملے کے ذمہ داروں اور ان کے پشت پناہوں کا احتساب کیا جائے۔نمائندہ ایرانی وزارت خارجہ منوچہر مرادی نے ایک بیان میں کہا کہ شہریوں کی جان و مال کے خلاف کسی بھی جارحیت کو جواب دیے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا، ایرانی قومی سلامتی اور مفادات کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔