آئین، گاندھیائی اقدار اور نوجوانوں کے لیے مسلسل رہے ہیں راہل گاندھی: کانگریس رکن پارلیمنٹ سکھدیو بھگت

Wait 5 sec.

کانگریس رکن پارلیمنٹ سکھدیو بھگت نے راہل گاندھی کے سیاسی کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آئین، گاندھیائی اقدار اور آئینی اداروں کے تحفظ کے لیے مسلسل آواز اٹھائی ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے سکھدیو بھگت نے کہا کہ راہل گاندھی نے آئین کے تحفظ اور جمہوری اقدار کو مضبوط کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے خصوصی طور پر ’بھارت جوڑو یاترا‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم کے ذریعے راہل گاندھی نے عوام کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کیا اور ملک میں اتحاد کا پیغام دیا۔سکھدیو بھگت نے مزید کہا کہ راہل گاندھی نوجوانوں کے مسائل پر بھی مسلسل ان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ راہل گاندھی کے بارے میں لوگوں کی مختلف آراء ہو سکتی ہیں، لیکن کانگریس کا اپنا ایک نظریہ اور جدوجہد کا اپنا راستہ ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی کو ایک دور اندیش لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ موجودہ دور میں بھی ہندوستان کے مستقبل کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔اس دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منوج کمار نے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی کو وزارت تعلیم کی ذمہ داری ملنے پر مبارکباد پیش کی۔ ساتھ ہی ملک کے تعلیمی نظام کے حوالے سے مرکزی حکومت پر سوالات بھی اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ادارے کے طور پر وزارت تعلیم کی حالت خراب ہو چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پرہلاد جوشی اپنی مدت کار کا آغاز مثبت اور مؤثر فیصلوں سے کریں گے۔ منوج کمار نے الزام عائد کیا کہ ملک کے کئی حصوں میں تعلیمی نظام سنگین چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے اتر پردیش میں اسکولوں کے بند ہونے اور بہار میں اساتذہ سے غیر تدریسی کام لیے جانے کا معاملہ اٹھایا۔ ان کے مطابق اساتذہ کو مردم شماری، انتخابات اور دیگر انتظامی کاموں میں لگا دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے تعلیم کا معیار متاثر ہوتا ہے۔کانگریس رکن پارلیمنٹ نے طلبہ سے متعلق مسائل کو لے کر بھی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی طویل عرصے سے اس معاملے میں کارروائی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کے لیے جوابدہی طے کی جانی چاہیے۔ بہار میں طلبہ پر ہونے والی مبینہ پولیس کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پولیس کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے، نہ کہ ان کے خلاف طاقت کا استعمال کرنا۔حکومت پر آمرانہ رویہ اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے منوج کمار نے کہا کہ جمہوری نظام میں عوام کی آواز سنی جانی چاہیے۔ حالیہ سیاسی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اسے جمہوریت اور آئین کی جیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ حکومت کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا، وہ غلط ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت میں عوام ہی سب سے بالاتر ہوتے ہیں اور حکومتوں کو عوام کی توقعات اور مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔