الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک معاملے پر سماعت کرتے ہوئے رام مندر نذرانہ چوری کا ذکر کر سخت تبصرہ کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ ’’ملک میں بدعنوانی اب عام بات ہو چکی ہے۔ رام مندر کے لیے پیش کیے گئے نذرانے کی چوری کا معاملہ بھی لوگوں کو شرمندہ نہیں کر سکا۔ اگر حکومت بدعنوانی پر قدغن لگانا چاہتی ہے تو قانون میں ترمیم کرے اور سنگین مقدمات میں سزائے موت دیے جانے پر غور کیا جانا چاہیے۔‘‘ جسٹس اتل شری دھرن نے یہ تبصرہ ہمیرپور کے کیف الدین سمیت دیگر عرضیوں پر سماعت کے دوران اپنے فیصلے میں درج کیا ہے۔ درخواست گزاروں نے بلڈوزر کارروائی پر پابندی اور تحفظ کی درخواست کی تھی۔ معاملے کی سماعت کرنے والی بنچ میں جسٹس سدھارتھانند بھی شامل تھے، جنہوں نے کچھ نکات پر اختلاف رائے کا اظہار کیا۔ہائی کورٹ نے کہا کہ ’’غیر قانونی تعمیرات میونسپل کارپوریشن کے کچھ بدعنوان افسران اور دیگر حکام کی ملی بھگت سے سامنے آتی ہیں۔ افسران رشوت لے کر خاموش ہو جاتے ہیں اور جب کارروائی ہوتی ہے تو اس کا خمیازہ عام خریدار کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔‘‘ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ’’غیر قانونی تعمیرات کرانے والے بلڈروں کے ساتھ ساتھ انہیں تحفظ دینے والے افسران کو بھی قانون کے مطابق سخت سزا ملنی چاہئے۔‘‘ بدعنوانی سے بڑھتی ہوئی عدم مساوات کا ذکر کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ’’بدعنوانی کی وجہ سے کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں غیر قانونی طور پر دولت جمع ہو رہی ہے، جس وجہ سے امیروں اور غریبوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر بروقت پابندی نہ لگائی گئی تو مستقبل میں سنگین حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔‘‘51 صفحات پر مشتمل فیصلے میں جسٹس اتُل شری دھرن نے کہا کہ رام مندر میں نذرانے کی چوری کا تنازعہ اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ عدالت نے کہا کہ اگر اتنے حساس مذہبی مقام پر نذرانے کی چوری سے بھی معاشرہ مضطرب نہیں ہوتا، تو یہ دیانت داری کے گرتے ہوئے معیار کا ایک سنگین اشارہ ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل 2025‘ کی رپورٹ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ 182 ممالک میں ہندوستان 91 ویں مقام پر ہے، لیکن اس کے باوجود بدعنوانی کے حوالے سے معاشرے میں متوقع حساسیت دکھائی نہیں دیتی۔جسٹس شری دھرن نے کہا کہ رام مندر میں نذرانے کی چوری سے متعلق حالیہ تنازعہ صبر کا پیمانہ ٹوٹنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے یہ تشویش بھی ظاہر کی کہ معاشرے میں بدعنوانی نے اس قدر جڑیں جما لی ہیں کہ اب حکومت کو ایسے معاملات کے مجرموں کو سزائے موت دینے کے لیے ’انسداد بدعنوانی قانون، 1988‘ میں ترمیم پر غور کرنا چاہیے۔ کورٹ نے کہا کہ کسی ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے بعد 2 برسوں تک اس کا مکان منہدم نہیں کیا جانا چاہئے۔ اگر کوئی شخص کسی مکان میں 3 برسوں یا اس سے زیادہ وقت سے رہ رہا ہے تو انہدام سے ایک برس قبل نوٹس دے کر متبادل انتظام کا موقع دیا جانا چاہئے۔ حالانکہ اس نکتے پر جسٹس سدھارتھانند نے اختلافِ رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت ہائی کورٹ کسی متعین مدت، مثلاً 2 برس، کا تعین نہیں کر سکتی۔ ان کا موقف تھا کہ ایسا انتظام مستقبل میں ملزم کی جانب سے کارروائی سے بچنے کے لیے ایف آئی آر کا غلط استعمال کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔