دہلی کے جنتر منتر پر 21 جولائی کو مودی حکومت کے خلاف نوجوانوں کا زبردست احتجاج دیکھنے کو ملا۔ اس دوران مدد اور تعاون کا ایک منفرد منظر اُس وقت نظر آیا جب ملک کے مختلف حصوں سے مظاہرین کے لیے جنتر منتر پر کھانے پینے کا سامان بھیجا گیا۔ فوڈ ڈیلیوری کمپنیوں کے ذریعے پزا، برگر، بریانی، سموسے اور کھانے کی تھالیاں مسلسل پہنچتی رہیں۔ذرائع سے موصول اطلاعات کے مطابق طلبا و نوجوانوں کے احتجاج کے دوران جنتر منتر اور اس کے آس پاس کا علاقہ دن بھر فوڈ ڈیلیوری کمپنیوں کی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔ سوئیگی، زومیٹو سمیت دیگر آن لائن فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارم کے ڈیلیوری پارٹنر مسلسل احتجاجی مقام پر پہنچتے رہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ممبئی، حیدرآباد، دہلی اور پنجاب کے مختلف شہروں سے یہ آن لائن آرڈر کیے گئے، جن کا پتہ جنتر منتر درج کرایا گیا تھا۔ بیشتر ڈیلیوریز کی ہدایات میں لکھا گیا تھا کہ کھانا کسی بھی ضرورت مند یا بھوکے مظاہرین کو دے دیا جائے۔ اس طرح ملک بھر کے لوگوں نے دور بیٹھے ہی احتجاج میں شامل افراد تک مدد پہنچانے کی کوشش کی۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق کناٹ پلیس کے کئی ریستورانوں میں دن بھر جنتر منتر کے نام سے آرڈر آتے رہے۔ ایک ڈیلیوری پارٹنر نے بتایا کہ وہ شام 4 بجے تک تقریباً 10 آرڈر جنتر منتر پہنچا چکا تھا۔ اس کے ساتھ دیگر ڈیلیوری ایجنٹ بھی مسلسل کھانا پہنچانے میں مصروف تھے۔ اندازہ ہے کہ پورے دن کے دوران 500 سے زیادہ آن لائن فوڈ آرڈر احتجاجی مقام پر پہنچے۔ ان میں پزا، برگر، بریانی، سموسے، کھانے کی تھالیاں اور دیگر غذائی اشیا شامل تھیں۔سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک ڈیلیوری پارٹنر بارش کے دوران مظاہرین کو کھانے کا پیکٹ دیتے ہوئے یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہا ہے کہ اس کی ادائیگی ممبئی کے ایک شخص انوج نے کی ہے۔ انہوں نے ہدایت دی تھی کہ یہ پیکٹ جنتر منتر پر موجود کسی بھی بھوکے شخص کو دے دیا جائے۔ اسی طرح کئی دیگر لوگوں نے بھی آن لائن کھانا منگوا کر مظاہرین تک پہنچایا۔صرف آن لائن آرڈر ہی نہیں، بلکہ احتجاجی مقام کے اندر، باہر اور وہاں تک جانے والے راستوں پر بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دیں۔ کئی سماجی تنظیموں اور عام شہریوں نے اسٹال لگا کر پانی، کولڈ ڈرنک، آئس کریم، بسکٹ، پھل، جوس، ٹافیاں، کڑھی چاول، بریانی اور دیگر غذائی اشیا تقسیم کیں۔ کئی لوگ ہاتھوں میں پانی اور کھانے کے پیکٹ لیے بھیڑ کے درمیان گھوم گھوم کر ضرورت مندوں تک امدادی سامان پہنچاتے رہے، تاکہ کسی کو کھانے یا پینے کے پانی کی کمی نہ ہو۔مدد کرنے والوں میں بڑی تعداد میں نوجوان بھی شامل رہے۔ پانی کی بوتلیں تقسیم کر رہی ایک نوجوان لڑکی نے بتایا کہ وہ پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کرتی ہے۔ اس نے اپنی آدھے دن کی تنخواہ پانی خریدنے پر خرچ کی، تاکہ احتجاج میں شامل لوگوں کو گرمی اور حبس کے درمیان پینے کا پانی فراہم کیا جا سکے۔احتجاجی مقام پر گزشتہ روز دن بھر ایسا ماحول دیکھنے کو ملا، جہاں ایک طرف لوگ اپنے مطالبات کو لے کر ڈٹے رہے، وہیں دوسری طرف ملک بھر سے ملنے والے تعاون اور عام لوگوں کی شرکت نے سماجی یکجہتی کی ایک الگ تصویر بھی پیش کی۔ ان مظاہرین طلبا کو اپوزیشن پارٹیوں کی بھی زبردست حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ خاص طور سے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی مضبوطی کے ساتھ طلبا کی آواز بلند کر رہے ہیں۔