لندن (22 جولائی 2026): نئے برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے امریکا کو فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔برطانیہ نے ایران پر امریکی حملوں کے لیے اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے دی، نئے برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے اس کی منظوری دی، تاہم برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا کو برطانیہ کے کچھ ہی اڈوں کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔امریکا کو فوجی اڈوں کی یہ فراہمی پیشرو کیئر اسٹارمر کی پالیسی کا تسلسل بتایا جا رہا ہے، اسٹارمر نے جمعہ کے روز اعلیٰ وزرا اور حکام کا ایک اجلاس منعقد کیا تھا تاکہ رواں ماہ کے آغاز میں امریکی کارروائیوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد برطانوی پالیسی پر غور کیا جا سکے۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں وزرا نے موجودہ پالیسی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، جس کے تحت بحرِ ہند میں واقع ڈیاگو گارشیا اور انگلینڈ کے گلوسسٹرشائر میں موجود آر اے ایف فیئر فورڈ کے اڈوں کو امریکی طیاروں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے، امریکی وزیر جنگیہ طیارے ایران کے میزائل خطرے کا مقابلہ کرنے اور آبنائے ہرمز کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونے والی تنصیبات کے خلاف کارروائیوں کے لیے مشن انجام دے سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پیر کے روز وزیر اعظم بننے والے اینڈی برنہم کو اس بحث سے آگاہ کیا گیا اور انھوں نے کیے گئے فیصلے سے اتفاق کیا۔ ذرائع کے مطابق برنہم اس معاملے میں سابق حکومت کی پالیسی جاری رکھیں گے، اس کا مطلب ہے کہ موجودہ امریکی کارروائیوں کے دوران بعض برطانوی اڈے استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ اسٹارمر کی جانب سے کیے گئے فیصلے سیاسی طور پر مشکل ثابت ہوئے، کیوں کہ انھیں برطانیہ کے بائیں بازو کے حلقوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا تھا کہ وہ اڈوں کے استعمال کو روکیں، جب کہ ٹرمپ کی جانب سے دباؤ تھا کہ برطانیہ جنگ میں اپنے کردار کو مزید وسعت دے۔ ٹرمپ کے ان بیانات نے بھی برطانوی حکام کو تشویش میں مبتلا کیا جن میں انھوں نے ایرانی شہری تنصیبات، جیسے پلوں اور بجلی گھروں، کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی تھیں۔ حکام کو ایسے حملوں کے قانونی اثرات پر خدشات ہیں۔برنہم کو بائیں بازو کی جماعت گرین پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹس کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیوں کہ دونوں جماعتیں ان اڈوں کے استعمال کی مخالفت کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے برطانیہ جنگی جرائم میں شریک بن سکتا ہے۔