بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کو دہلی پولیس نے رہا کردیا

Wait 5 sec.

نئی دہلی(22 جولائی 2026): بھارت کے اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کو وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر سے حراست میں لیے جانے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔سوشل میڈیا سے جنم لینے والی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں جاری یہ مظاہرے 2024 میں مودی حکومت کے دوبارہ انتخاب کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔مظاہرین بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ راہول گاندھی نے منگل کے روز دہلی میں دھرنا دیا تھا، جس میں انہوں نے حکومت پر طلبہ کے مطالبات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا اور ایک دن قبل مظاہرین پر پولیس کے لاٹھی چارج اور کارروائی کی سخت مذمت کی۔امتحانات میں بے ضابطگیوں اور تنازعات کے باعث شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کا شکار وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے منگل کی دیر گئے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ حکومت اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔مظاہرے شروع ہونے کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں انہوں نے کہا ہم طلبہ کو جوابدہی، اصلاحات اور شفافیت فراہم کرنے کے پابند ہیں اور ہماری حکومت یہی کر رہی ہے۔نیو دہلی میں ہونے والے یہ مظاہرے اس وقت پرتشدد ہو گئے جب مظاہرین نے سیکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کے شیل داغے اور لاٹھی چارج کیا۔گزشتہ پانچ سالوں میں دارالحکومت میں ہونے والے اس سب سے بڑے احتجاج کے دوران پولیس کے مطابق 60 شہری اور 118 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ دہلی کے علاوہ ممبئی اور بنگلورو میں بھی صدہا افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے۔ مودی کی رہائشگاہ کے باہر احتجاج پر راہول گاندھی گرفتاربدھ کو بھی سیکڑوں مظاہرین دہلی کے معروف احتجاجی مقام "جنتر منتر” پر خیمہ زن رہے، جبکہ سی جے پی نے اس مہم کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے جو اب اپنے تیسرے روز میں داخل ہو چکی ہے۔تنظیم نے سوشل میڈیا پر وزیر تعلیم کو "نااہل” قرار دیتے ہوئے اپنی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔مئی میں قائم ہونے والی اس تحریک نے سوشل میڈیا پر لاکھوں حامی حاصل کر لیے ہیں۔امتحانی نظام پر پیدا ہونے والا یہ بحران طبی شعبے کی داخلہ امتحان کے پرچے افشا ہونے اور تقریباً 20 لاکھ سے زائد امیدواروں کے دوبارہ امتحان دینے پر مجبور ہونے کے بعد پیدا ہوا، جبکہ ہائی اسکول کے لاکھوں طلبہ کی آن لائن مارکنگ کے تنازع نے عوامی غصے میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔