ایرانی مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، مارکو روبیو

Wait 5 sec.

واشنگٹن (22 جولائی 2026): امریکا اور ایران نے منگل سے بدھ تک ایک دوسرے کے خلاف حملوں کی گیارہویں رات بھی کارروائیاں جاری رکھیں، ایسے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران ’’مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں‘‘ ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق مارکو روبیو کا یہ بیان امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی قانون سازوں کے سامنے گواہی کے بعد سامنے آیا ہے، جب کہ ٹرمپ انتظامیہ جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید دسیوں ارب ڈالر کی اضافی فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ پر اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، تاہم سی این این سے بات کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل لاگت اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ ہیگسیتھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے جنگ کے لیے اضافی فنڈنگ حاصل کرنے کی غرض سے کانگریس کے سامنے گواہی دی۔اس کے چند گھنٹے بعد وزیر خارجہ روبیو نے خبردار کیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی اجازت دینا ایک ’’خطرناک مثال‘‘ قائم کرے گا۔ ان کے مطابق فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے پہلے یہ آبنائے آزاد اور محفوظ آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھلی ہوئی تھی۔نئے برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے امریکا کو فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دیروبیو نے کہا امریکا ایران کے معاملے پر سفارت کاری اور مذاکرات کے لیے بدستور تیار ہے، ایران سے مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں، اختلافات کے حل کے لیے بات چیت ہی ہماری ترجیح ہے، لیکن بدقسمتی سے ایران نے اب تک اپنے وعدے پورے نہیں کیے، وہ سنجیدگی دکھائے تو امریکا بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے، تہران سنجیدہ نہ ہوا تو امریکا اپنے اور اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔انھوں نے کہا داؤ پر صرف ہرمز نہیں، بین الاقوامی سمندری راستوں کا مستقبل بھی ہے، سمندری راستوں پر آزادیٔ نقل و حرکت ایک بنیادی اصول ہے، آزادیٔ نقل و حرکت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، عالمی معیشت اور تجارتی نظام کے تحفظ کے لیے سمندری راستوں کی آزادی برقرار رکھنا ہوگی۔سی این این کے مطابق ایک شپنگ تجزیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ایک اور اہم آبی گزرگاہ میں خلل سے یہ خطرہ بڑھ گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی توانائی سے متعلق دو اہم ترین گزرگاہیں بہ یک وقت دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔ ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں نے باب المندب آبنائے میں سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں کی ناکہ بندی کی دھمکی دی ہے۔ اس اعلان کے بعد اس کے اثرات پہلے ہی نظر آنے لگے ہیں، کیوں کہ سعودی خام تیل لے جانے والے دو ٹینکرز نے بحیرۂ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔