تھلاپتی وجے حکومت 5 اگست کو پیش کرے گی اپنا پہلا بجٹ، تمل ناڈو والوں کو تحائف کا انتظار

Wait 5 sec.

تمل ناڈو کی تھلاپتی وجے حکومت 5 اگست کو اپنا پہلا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔ تمل ناڈو کے عوام کو اس بجٹ سے کافی توقعات وابستہ ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ ریاستی انتخاب میں کیے گئے کچھ وعدوں کو حکومت اس بجٹ میں پورا کر سکتی ہے۔ بتا دیں کہ ریاست کے وزیر خزانہ این میری ولسن اسمبلی میں مالی سال 27-2026  کا نظر ثانی شدہ بجٹ پیش کریں گے۔ اس کا اعلان منگل کے روز اسمبلی کے اسپیکر جے سی ڈی پربھاکر نے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 5 اگست کو صبح 10 بجے بجٹ پیش کیا جائے گا۔ جبکہ زرعی بجٹ الگ سے 6 اگست کو وزیر زراعت وینوتھ پیش کریں گے۔ اس نظر ثانی شدہ بجٹ کو اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ ’ٹی وی کے‘ حکومت کا پہلا بجٹ ہوگا۔اس بجٹ میں حکومت موجودہ مالی سال کے بقیہ مہینوں کے لیے اپنی مالی ترجیحات، اخراجات کے منصوبے اور پالیسی ساز پہل کا خاکہ پیش کرے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ نئی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد در پیش مالی چیلنجز کے حل کیے لیے کیا منصوبے تیار کرتی ہے۔ اس سے قبل ’ڈی ایم کے‘ حکومت نے اسمبلی انتخاب سے قبل 27-2026 کے لیے عبوری بجٹ پیش کیا تھا۔ اس بجٹ میں 3.44 لاکھ کروڑ روپے کی ریونیو وصولی اور 3.93 لاکھ کروڑ روپے کے ریونیو اخراجات کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ اس کی بنیاد پر 48697 کروڑ روپے کے ریونیو خسارے کا امکان بھی لگایا گیا۔ وہیں مالیاتی خسارہ 1.22 لاکھ کروڑ روپے ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹی وی کے حکومت نے ریاست کی مالیاتی صورتحال پر وائٹ پیپر جاری کیا۔اس میں اقتصادی صورتحال کو کہیں زیادہ چیلنجنگ بتایا گیا۔ وائٹ پیپر کے مطابق تمل ناڈو پر کل قرض بڑھ کر 13.18 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا ہے، اور ریاست کی مالی حالت پر کافی دباؤ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عبوری بجٹ میں اندازہ لگایا گیا کہ 48697 کروڑ روپے کا ریونیو خسارہ بڑھ کر تقریباً 90500  کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ وہیں مالیاتی خسارہ بھی بڑھ کر قریب 1.64 لاکھ کروڑ روپے ہونے کا اندیشہ ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اندازاً ریاست کی زیادہ سے زیادہ قرض لینے کی صلاحیت 1.52 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ یوں تقریباً 11600 کروڑ روپے کی مالیاتی قلت رہ سکتی ہے۔ اس وقت پیش کردہ نظرثانی شدہ بجٹ سے توقع ہے کہ حکومت مالیاتی خسارے کو کس طرح کم کرے گی، اس کے ساتھ ساتھ فلاحی اسکیموں، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، ترقیاتی کاموں اور سرمائے کے اخراجات کو بھی جاری رکھے گی۔