امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے امکانات میں یقینی کمی کے بعد ایک مرتبہ پھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق لندن بینچ مارک برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 6.42 ڈالر کی کمی کے بعد 90.36 ڈالر فی بیرل ہوگئیامریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل 5.47 ڈالر سستا ہوگیا، جس کے بعد اس کی قیمت 90.36 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔اس کے علاوہ ابوظبی بینچ مارک مربان کروڈ 12.20 ڈالر کی کمی سے 84.85 ڈالر فی بیرل ہوگیا جبکہ عالمی منڈی میں قدرتی گیس کی قیمت میں کم ہوکر2.7ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی سامنے آرہی ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام پر امریکا اور ایران نے دو ہفتوں تک جاری رہنے والے حملوں کے بعد اپنی فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی تھیں، جس کے نتیجے میں پیر کے روز تیل کی قیمتوں 5نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 3ہفتوں کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد دونوں معاہدے تقریباً ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہو رہے ہیں۔برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، کیوں کہ یہ تنازع آبنائے ہرمز سے آگے بڑھ کر بحیرۂ احمر تک پھیل گیا تھا۔اس کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی، جب کہ دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندہ سعودی عرب کی ایشیا کے لیے باب المندب کی آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی برآمدات بھی رکاوٹ کا شکار ہوئیں۔عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں وقتی کمی اور سفارتی کوششوں کی بحالی سے وابستہ امیدیں ہیں۔