شدید گرمی سے 2050 تک ہر سال 4.3 لاکھ اضافی اموات کا خدشہ: رپورٹ

Wait 5 sec.

نئی دہلی: موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی شدید گرمی آئندہ برسوں میں لاکھوں اضافی اموات کا سبب بن سکتی ہے۔ ایک نئی بین الاقوامی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر لوگوں کو ٹھنڈک فراہم کرنے والی سہولتیں اور قابلِ اعتماد بجلی میسر نہ ہوئیں تو سال 2050 تک ہر سال تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار اضافی افراد گرمی کی شدت کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں، جن میں اکثریت غریب ممالک کے شہریوں کی ہوگی۔پیر کے روز جاری ہونے والی کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی رپورٹ کے مطابق شدید گرمی سے ہونے والی ان اموات کا بڑا سبب صرف بڑھتا ہوا درجۂ حرارت نہیں بلکہ کولنگ کے وسائل، خصوصاً بجلی اور ایئر کنڈیشننگ تک محدود رسائی بھی ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن علاقوں میں گرمی کا اثر سب سے زیادہ ہوگا، وہیں کے لوگوں کے پاس گرمی سے بچنے کے لیے درکار وسائل سب سے کم ہوں گے۔کلائمیٹ امپیکٹ لیب کے شریک بانی اور شکاگو یونیورسٹی کے ماہرِ معاشیات مائیکل گرین اسٹون نے کہا کہ ایئر کنڈیشنر شدید گرمی کے دوران انسانی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن دنیا کے بیشتر غریب ممالک کے شہری ان سہولتوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کا سب سے افسوسناک پہلو یہی ہے کہ سب سے زیادہ جانی نقصان ان ممالک میں ہوگا، جنہوں نے عالمی حدت میں سب سے کم حصہ ڈالا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت صرف خوش حال ممالک ہی بڑے پیمانے پر کولنگ کے لیے درکار بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ مستقبل میں بعض درمیانی آمدنی والے ممالک میں بجلی کی فراہمی اور کولنگ کے وسائل میں اضافہ ہوگا، تاہم کم آمدنی والے ممالک میں بجلی کی اضافی دستیابی انتہائی محدود رہے گی۔برطانیہ میں شدید گرمی کے باعث جنگلات میں آگ کا خطرہ، کئی علاقوں میں ہائی الرٹتحقیق کے مطابق درمیانی آمدنی والے ممالک میں کولنگ کے لیے بجلی کی کھپت، کم آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں 7 گنا زیادہ بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ غریب ممالک میں فی کس اضافی بجلی اتنی کم ہوگی کہ اس سے صرف ایک ایل ای ڈی بلب چند ماہ تک ہی روشن رکھا جا سکے گا۔رپورٹ میں 18 ایسے ممالک کے علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں تقریباً 67 کروڑ 60 لاکھ افراد شدید گرمی اور کولنگ کی سہولتوں کی کمی، دونوں مسائل کا بیک وقت سامنا کریں گے۔ ان علاقوں میں 2050 تک ہر سال تقریباً 3 لاکھ 77 ہزار اضافی اموات متوقع ہیں۔25 ریاستوں میں بارش کا الرٹ، دہلی میں گرمی سے ملے گی راحت، اتراکھنڈ میں سیلاب کا خطرہسب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں افریقہ کے نائجر، مالی، برکینا فاسو اور چاڈ شامل ہیں، جبکہ جنوبی ایشیا میں پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور میانمار بھی شدید خطرے سے دوچار ممالک میں شمار کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں ان ممالک کا موازنہ خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین سے کیا گیا ہے، جہاں درجۂ حرارت تقریباً اتنا ہی بلند رہتا ہے، لیکن بجلی اور کولنگ کی بہتر سہولتوں کے باعث گرمی سے ہونے والی اموات نسبتاً کم رہنے کی توقع ہے۔کلائمیٹ امپیکٹ لیب کے محقق اشون روڈے نے کہا کہ شدید گرمی سے جانیں بچانے کے لیے صرف بجلی کی فراہمی بڑھانا ہی کافی نہیں، بلکہ ہیٹ ارلی وارننگ سسٹم، مؤثر ہنگامی منصوبہ بندی، صحت کی بہتر سہولتیں اور کمزور طبقات کے لیے خصوصی سماجی پروگرام بھی ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق حکومتوں اور پالیسی سازوں کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ مستقبل میں شدید گرمی سے ہونے والی اموات میں اضافہ روکا جا سکے۔