دہلی (28 جولائی 2026): نیٹ پیپر لیک پر بھارت بھر میں جین زی کا احتجاج ختم ہوئے دو دن نہیں ہوئے کہ ایک اور پیپر واٹس ایپ پر لیک ہو گیا۔بھارت بھر میں نیٹ پیپر لیک پر جین زی کا عالمی سطح پر شہرت پانے والا احتجاج ختم ہوئے ابھی دو دن ہی ہوئے تھے کہ وہاں ایک اور پیپر لیک کا معاملہ سامنے آ گیا ہے، جس نے بھارتی نظام تعلیم پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق اس بار گجرات کے جام نگر میں آیوروید یونیورسٹی میں بی اے ایم ایس کا پرچہ لیک ہو گیا ہے۔ ایم ایس سرجیکل سسٹم کا پیپر امتحان سے پہلے واٹس ایپ پر وائرل ہوگیا ہے۔مذکورہ یونیورسٹی سے 20 سے 25 کالجوں کا الحاق ہے اور اس میں زیر تعلیم ہزاروں طلبہ کا مستقبل ایک بار پھر ڈانوا ڈول ہو گیا ہے اور وہ کنفیوشن کا شکار ہیں۔معاملہ سامنے آتے ہی یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی۔ تاہم دیگر مضامین کے امتحانات کو معطل نہیں کیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق بی اے ایم ایس تھرڈ ایئر ایم ایس سرجیکل سسٹم کا امتحان 20 جولائی کو منعقد ہوا تھا۔ اس وقت سب کچھ نارمل لگ رہا تھا۔ تاہم امتحان کے اختتام تک حالات کشیدہ ہو گئے۔دعویٰ کیا گیا کہ امتحان شروع ہونے سے کافی پہلے واٹس ایپ گروپس پر پیپر گردش کر رہا تھا۔ پیپر میں درج 12 سوالات میں سے 11 ایسے تھے جو پہلے سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہے تھے۔واضح رہے کہ بھارت میں پروفیشنل ڈگری میں داخلوں کے لیے دیے جانے والے نیٹ پیپر کے لیک ہونے کا معاملہ اس وقت انتہائی سنگین نوعیت اختیار کر گیا تھا۔22 طلبہ کی خودکشی اور 20 لاکھ سے زائد طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگنے کے بعد جین زی سڑکوں پر احتجاج کے لیے اتری اور ڈراما خیز جدوجہد کے بعد وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کو مستعفی ہونے اور مودی سرکار کو اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کیا۔بھارت کے سب سے بڑے امتحانی اسکینڈل کی مکمل کہانی، پیپر آخر لیک کیسے ہوا؟