واشنگٹن(28 جولائی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کو ایف 35 طیاروں کی فروخت پر نیتن یاہو کا اعتراض مسترد کر دیا۔ایئرفورس ون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کو ایف 35 جنگی طیارے فروخت کرنے کے خلاف اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کا اعتراض مسترد کر دیا ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کوئی انہیں یہ نہیں بتا سکتا کہ امریکا کو کیا فروخت کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ انہوں نے ترکی کو ایک عظیم اتحادی قرار دیا اور ترک صدر رجب طیب اردگان کو اپنا دوست کہا۔اس کے علاوہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے بغیر اسرائیل کی بقا مشکل ہے، اور اگر وہ اس معاملے میں شامل نہ ہوتے تو اسرائیل کا خاتمہ مہینوں یا برسوں پہلے ہی ہو چکا ہوتا۔اگرچہ ٹرمپ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انقرہ اسرائیل یا نیتن یاہو کا بڑا حامی نہیں ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگتن اور انقرہ کے درمیان دوطرفہ شراکت داری مضبوط چلی آ رہی ہے۔ انہوں نے ترکی کی فوج کو زبردست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی فوج بہت بڑی اور ملک انتہائی طاقتور ہے۔یاد رہے کہ جولائی میں ترکی میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ انقرہ کو طیاروں کی فراہمی بحال کرنے پر سنجیدگی سے غور کریں گے، اور انہوں نے ترکی کو دیگر ممالک کے مقابلے میں "کہیں زیادہ وفادار” قرار دیا تھا۔واضح رہے کہ 2019 میں ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران امریکا نے ترکی کی جانب سے روس کا ایس 400 میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے پر اسے ایف 35 پروگرام سے معطل کر دیا تھا۔دوسری جانب ترکی کا مؤقف رہا ہے کہ دونوں سسٹمز کے درمیان کوئی تصادم نہیں ہے اور اس نے اس مسئلے کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیشن بنانے کی تجویز بھی دی تھی۔انقرہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے ایف 35 کے حوالے سے اپنی تمام ذمے داریاں پوری کی ہیں اور اس کی معطلی قوانین کی خلاف ورزی تھی، کیونکہ یہ طیارے نہ صرف ترکی بلکہ پورے نیٹو اتحاد کو مزید مضبوط کریں گے۔