ایران کا آبنائے ہرمز پر اکیلے کنٹرول نہیں ہوگا، عمان نے مشترکہ مکینزم کی تجویز پیش کردی

Wait 5 sec.

اردن(28 جولائی 2026): عمان نے ایران کو آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک مشترکہ علاقائی مکینزم کی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت اس اہم آبی گزرگاہ پر رضاکارانہ فیس وصول کی جائے گی۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق خلیجی ذرائع نے بتایا ہے کہ عمان کی جانب سے پیش کی جانے والی اس تجویز کو خطے کے دیگر ممالک کی بھی حمایت حاصل ہے، اور اس کے تحت ایران کا آبنائے ہرمز پر اکیلے کنٹرول نہیں ہوگا۔رپورٹ کے مطابق یہ تجویز آبنائے ملاکا کے ماڈل پر مبنی ہے، جہاں اس آبی راستے کو استعمال کرنے والے ممالک اور ادارے رضاکارانہ طور پر فیس ادا کرتے ہیں تاکہ اس رقم سے جہاز رانی، ماحولیاتی تحفظ اور ریسکیو کارروائیوں کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔دوسری جانب، امریکا کی جانب سے گزشتہ ہفتے کے آخر میں ایران پر فضائی حملوں کی مہم اچانک معطل کرنے کے بعد اس امید کو تقویت ملی ہے کہ سفارتی حل کے ذریعے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی دوبارہ بحال ہو سکے گی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ امریکا کی ایران کے ساتھ اچھی بات چیت جاری ہے اور کسی معاہدے کا امکان موجود ہے، تاہم انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی حملے دوبارہ شروع کر دیے جائیں گے۔ادھر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پیر کو اپنے عمانی اور سعودی ہم منصبوں سے آبنائے ہرمز کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق انہوں نے خطے میں استحکام پیدا کرنے کے لیے تعاون کو مضبوط بنانے اور مشترکہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، اور امریکا کی جارحانہ کارروائیوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی عدم سیکیورٹی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔