نیٹ مکمل طرح ناکام ہو چکا ہے، اسے ختم کرنے کا وقت آ گیا: ایم کے اسٹالن

Wait 5 sec.

تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ ارور ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن نے جمعرات کو قومی اہلیت و داخلہ امتحان (نیٹ) کے حوالے سے مرکزی حکومت پر حملہ تیز کرتے ہوئے کہا کہ یہ امتحان اپنے اعلانیہ مقاصد کو پورا کرنے میں پوری طرح ناکام رہا ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے نیٹ کو ختم کرنے کا مطالبہ دہرایا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے اسٹالن نے کہا کہ ’’جس مقصد کے تحت نیٹ نافذ کی گئی تھی، وہ کسی بھی محاذ پر کامیاب نہیں ہوئی۔‘‘ ان کے مطابق اس سے نہ تو طلبہ کا تعلیمی دباؤ کم ہوا، نہ تعلیم کی تجارتی سازی پر روک لگی اور نہ ہی تعلیم کے معیار میں کوئی بہتری آئی۔NEET was introduced with three principal promises: (1) reduce the burden, (2) eliminate commercialisation, and (3) improve standards.On every one of these counts, #NEET has failed. It has merely shifted the centre of learning from schools to coaching centres.The problem with… pic.twitter.com/WwSQBloykM— M.K.Stalin (@mkstalin) July 23, 2026ایم کے اسٹالن نے کہا کہ نیٹ نے پڑھائی کا مرکز اسکولوں سے ہٹا کر پرائیویٹ کوچنگ اداروں کی طرف کر دیا ہے، جس سے میڈیکل داخلے کی تیاری کر رہے طلبہ اور ان کے خاندانوں پر اضافی معاشی اور ذہنی بوجھ بڑھا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ نیٹ کی مشکلات صرف طریقہ کار سے جڑی نہیں ہیں، بلکہ اس کے پورے نظام میں ہی خامیاں ہیں۔ حالیہ واقعات نے تمل ناڈو کی جانب سے سالوں سے اٹھائے جانے والے خدشات کو سچ ثابت کیا ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کا جاری احتجاجی مظاہرہ مرکزی حکومت کے لیے ایک وارننگ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مرکز ریاستوں پر بھروسہ کرے اور نیٹ  کو ختم کرے۔’نیٹ کو مکمل طور پر ختم کیا جائے‘، طلبہ کے احتجاج کے درمیان وزیر اعلیٰ وجے کا مرکزی حکومت سے اہم مطالبہواضح رہے کہ اسٹالن نے ایک روز قبل نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کی تحریک کی حمایت کی تھی۔ طلبہ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بعد اصلاحات اور نیٹ کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ احتجاجی طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے اسٹالن نے کہا کہ تمل ناڈو نے شروع سے ہی وارننگ دی تھی کہ نیٹ بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور میڈیکل کی تعلیم میں غیر مساوی مواقع کو فروغ دے گا۔ یہ سماجی انصاف کے تصور کو کمزور کرتا ہے اور دیہی علاقوں، سرکاری اسکولوں اور معاشی طور پر کمزور طبقات کے طلبہ کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے۔تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اسٹالن نے کہا کہ ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں کا بنیادی مقصد محض امتحانی طریقہ کار میں اصلاحات نہیں، بلکہ نیٹ کو مکمل طور پر ختم کرنا ہونا چاہیے۔ صرف طریقۂ کار کی تبدیلیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میڈیکل داخلہ کے عمل میں انصاف، شفافیت اور مساوی مواقع کو یقینی بنانے کے لیے نیٹ کو ختم کرنا ہی مستقل حل ہے۔تمل ناڈو کے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے ایم کے اسٹالن نے کہا کہ سماجی انصاف کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنے والی ریاست آج بھی نیٹ کو مکمل طور پر ختم کرنے کے مطالبے پر قائم ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے ملک بھر کے طلبہ کے بڑھتے ہوئے خدشات کو سنجیدگی سے لینے اور میڈیکل داخلے کے لیے زیادہ منصفانہ اور مساوی مواقع کو یقینی بنانے والا نیا نظام نافذ کرنے کی اپیل کی۔