دہلی کی حقیقی فضائی آلودگی مسلسل 54 دن سے گزشتہ سال سے زیادہ، پالیسیوں کی ناکامی: اجے ماکن

Wait 5 sec.

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق تازہ تجزیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں موسمی اثرات کو الگ کر کے کیے گئے تجزیے کے مطابق حقیقی فضائی آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں مسلسل زیادہ رہی ہے۔ ان کے مطابق دہلی میں پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں مسلسل 54 دن سے زیادہ ریکارڈ کی جا رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آلودگی میں یہ اضافہ محض موسمی اتار چڑھاؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو اور تحریری بیان میں کہا کہ ان کا تجزیہ 21 جولائی صبح 10 بجے سے 22 جولائی صبح 10 بجے تک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جبکہ اس کا موازنہ گزشتہ سال 15 جولائی سے 29 جولائی 2025 کے اوسط اعداد و شمار سے کیا گیا ہے تاکہ کسی ایک دن کے موسمی اتار چڑھاؤ سے نتائج متاثر نہ ہوں۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے اے کیو آئی (ایئر کوالٹی انڈیکس) کے مطابق دہلی کا اوسط اے کیو آئی 68 ریکارڈ کیا گیا، جو بظاہر اطمینان بخش زمرے میں آتا ہے، تاہم موسمی اثرات کو الگ کرنے کے بعد یہی انڈیکس بڑھ کر 99 تک پہنچ جاتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حقیقی فضائی آلودگی بظاہر نظر آنے والی صورتحال سے کہیں زیادہ خراب ہے۔اجے ماکن کے مطابق موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد دہلی کا اے کیو آئی گزشتہ سال کے مقابلے میں 22 پوائنٹس زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ شہر کے تمام 31 فضائی نگرانی مراکز میں فضائی معیار گزشتہ سال کے مقابلے میں اوسطاً 23 پوائنٹس زیادہ خراب پایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سات میں سے چھ فضائی آلودگی پھیلانے والے عناصر کی صورتحال یا تو جوں کی توں ہے یا مزید خراب ہو چکی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ موسمی اثرات الگ کرنے پر پی ایم 2.5 کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں 36 فیصد اور پی ایم 10 کی سطح 29 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ ان کے مطابق یہ اضافہ حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ موسم کی تبدیلی کو۔اجے ماکن نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دہلی میں پی ایم 10 کی سطح مسلسل 54 دن سے گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے اور مئی سے اب تک ایک بھی دن ایسا نہیں آیا جب یہ سطح گزشتہ سال سے کم ریکارڈ کی گئی ہو۔ ان کے مطابق اگر فضائی آلودگی میں یہ تبدیلی صرف موسمی عوامل کی وجہ سے ہوتی تو بعض دنوں میں اس میں کمی بھی دیکھنے کو ملتی، تاہم مسلسل 54 دن تک بلند سطح برقرار رہنا ایک مستقل بگاڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موسمی اثرات سے آزاد تجزیے کے مطابق وزیرپور کی صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے، جہاں اے کیو آئی 130 اور پی ایم 10 کی سطح 143.8 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حد سے 3.2 گنا زیادہ ہے۔दिल्ली की हवा पर चेतावनी शहर का औसत AQI 68 — जबकि WHO मानक AQI 25 है, जो PM2.5 के 15 μg/m³ के बराबर है।• शहर AQI 68 — ‘संतोषजनक’ (population weighted 72)• सबसे ख़राब: Wazirpur — मौसम हटाने पर AQI 130 (PM10 का इलाक़ा)• मौसम हटाने पर असली AQI पिछले साल से 22 अंक ऊपर —… pic.twitter.com/95z18DF43B— Ajay Maken (@ajaymaken) July 22, 2026اجے ماکن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پی ایم 10 اور پی ایم 2.5 کے ذرائع، خصوصاً تعمیراتی دھول، سڑکوں کی گرد، صنعتوں، گاڑیوں کے اخراج اور حیاتیاتی ایندھن کے جلائے جانے پر فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے وزیرپور جیسے متاثرہ علاقوں میں مقامی سطح پر اقدامات، صحت سے متعلق انتباہ جاری کرنے اور فضائی آلودگی کے زیادہ دنوں میں عوامی صحت سے متعلق ضابطوں کے نفاذ کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا، ’سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں۔‘