کیلیفورنیا : امریکا میں مسروقہ موٹر سائیکل کا تنازعہ قتل کی خوفناک واردات بن گیا، مسلح ملزم نے شوہر کو بچانے کیلیے آنے والی خاتون کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں مسروقہ موٹرسائیکل کے تنازع نے خوفناک رخ اختیار کر لیا، جہاں شوہر کو بچانے کے لیے موقع پر پہنچنے والی 44 سالہ خاتون کو مسلح شخص نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔عدالت نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد ملزم کو فرسٹ ڈگری قتل سمیت متعدد سنگین جرائم کا مجرم قرار دے دیا۔استغاثہ کے مطابق واقعہ 29 اگست 2024 کو کیلیفورنیا کے نواحی علاقے میں پیش آیا۔ 51 سالہ لوئس ولاچانا کو معلوم ہوا کہ اس کی موٹرسائیکل چوری ہوگئی ہے، پولیس سے رابطہ کرنے کے بجائے اس نے دو افراد کی مدد سے خود موٹرسائیکل کی تلاش شروع کی۔اس دوران ملزم ایک گھر تک پہنچا، جہاں اسے اپنی موٹرسائیکل گیراج میں کھڑی نظر آئی، جس پر وہ طیش میں آکر زبردستی گھر میں داخل ہوا اور موٹرسائیکل چور کے بارے میں پوچھ گچھ شروع کردی، معقول جواب نہ ملنے پر اس نے مبینہ طور پر وہاں موجود شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا۔بعد ازاں ایک اور رہائشی نے اپنے والد کو بلایا تاکہ معاملہ ٹھنڈا ہوسکے، تاہم ملزم نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ استغاثہ کے مطابق اس نے پہلے مقتول کے شوہر کی جانب گولی چلائی، پھر دوبارہ فائرنگ کی جس سے وہ زخمی ہو گیا۔اسی دوران زخمی شخص کی اہلیہ روتھ این کمنگز اپنے شوہر کو وہاں سے محفوظ نکالنے کے لیے ایس یو وی میں موقع پر پہنچیں۔ عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق ملزم نے خاتون، ان کے شوہر اور بیٹی کو جان سے مارنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا، "میں تم سب کو ختم کر دوں گا” اور اس کے فوراً بعد گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔گولیاں ایس یو وی میں بیٹھیں روتھ این کمنگز کو لگیں، جو شدید زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گئیں۔واقعے کے بعد ملزم فرار ہو گیا اور ایک ہفتے سے زائد عرصے تک مفرور رہا، تاہم بعد میں اسے گرفتار کر لیا گیا۔عدالت میں مقدمے کی سماعت کے بعد جیوری نے جمعے کے روز لوئس ویلاچانا کو فرسٹ ڈگری قتل، اقدام قتل اور غیر قانونی طور پر گھر میں داخل ہونے کے الزامات میں مجرم قرار دے دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم کو قتل کے جرم میں 50 سال سے عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ دیگر جرائم پر اسے مزید 24 سال اور 4 ماہ قید کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ سزا کا باضابطہ اعلان 14 اگست کو کیا جائے گا۔کرن کاؤنٹی کی ڈسٹرکٹ اٹارنی سنتھیا زِمر نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ مکمل طور پر قابلِ گریز تھا اور ملزم کے اقدامات کسی بھی طرح جائز قرار نہیں دیے جا سکتے۔