ایران کا خوف: اسرائیلی وزیراعظم خاموشی سے امریکا روانہ ہوئے

Wait 5 sec.

(28 جولائی 2026): ایران کے حملوں سے خوفزدہ صہیونی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو خاموشی سے امریکا کے لیے روانہ ہوئے۔اسرائیلی وزیراعظم آج وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ تاہم وہ اسرائیل سے امریکا انتہائی خاموشی سے روانہ ہوئے۔ ان کی روانگی کے وقت کا پیشگی اعلان نہیں کیا گیا اور وہ انتہائی غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات میں امریکا کے لیے روانہ ہوئے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ خاموشی ایران کے خطرے کے پیش نظر اختیار کی گئی۔ نیتن یاہو نے معمول کے مطابق بن گوریون ائیرپورٹ کے بجائے نواتم ائیر بیس سے خصوصی طیارے کے ذریعے امریکا کے لیے اڑان بھری۔اسرائیلی میڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر گزشتہ اتوار کو کابینہ کا اجلاس بھی وزیراعظم کے دفتر کے بجائے زیر زمین ایک خفیہ مقام پر منعقد کیا گیا۔بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے اس بار نیتن یاہو کے ساتھ سرکاری طیارے میں اسرائیلی سفارتی میڈیا کے صحافیوں کو ساتھ سفر کرنے کی اجازت بھی نہیں دی اور اس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔امریکا روانگی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ سے ملاقات میں تمام مسائل پر بات ہوگی اور ایران اس میں پہلے نمبر پر ہوگا۔ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس میں کس سے اہم ملاقاتیں کریں گے؟