لندن : برطانیہ میں حیران کن واقعہ اس وقت سامنے آیا جب دو سال تک ایک ہی جگہ کام کرنے والے دو ساتھیوں کو معلوم ہوا کہ وہ دراصل آپس میں سگے بہن بھائی ہیں، جو بچپن میں جدا ہوگئے تھے۔60سالہ ڈیو گرین 2005 میں مانچسٹر ایئرپورٹ کے بس اسٹیشن پر سپروائزر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، جبکہ 53 سالہ اینڈریا اُرمسٹن وہاں وینڈنگ مشینوں میں سامان فراہم کرنے کی ذمہ دار تھیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق دونوں آفس کولیگز کے درمیان موٹر سائیکلوں کے مشترکہ شوق کی وجہ سے دوستی ہوئی، جو وقت گزرنے کے ساتھ مضبوط ہوتی چلی گئی۔دو سال بعد ایک روز گود لینے (ایڈوپشن) سے متعلق گفتگو کے دوران ڈیو گرین نے بتایا کہ انہیں بچپن میں گود لیا گیا تھا، اس پر اینڈریا نے ذکر کیا کہ ان کا ایک بھائی بھی پیدائش کے فوراً بعد کسی کو گود دے دیا گیا تھا۔جب ڈیو نے اپنا پیدائشی نام اسٹیورٹ پراؤڈلو بتایا تو اینڈریا حیرت میں گم ہوکر کر رہ گئیں کیونکہ شادی سے پہلے ان کا خاندانی نام بھی پراؤڈلو تھا۔اینڈریا نے فوری طور پر اپنی والدہ سوزن سے رابطہ کیا اور اپنے گود دیے گئے بھائی کی تاریخِ پیدائش معلوم کی۔ جب تاریخ 24 مارچ 1966 نکلی تو انہیں یقین ہوگیا کہ برسوں سے بچھڑا ہوا بھائی انہیں مل چکا ہے۔سوزن نے صرف 15 سال کی عمر میں ڈیو کو جنم دیا تھا اور بعد میں انہیں ایک ایسے خاندان کے حوالے کر دیا گیا تھا جو اولاد سے محروم تھا، انہوں نے برسوں تک اپنے بیٹے کو تلاش کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔حقیقت سامنے آنے کے بعد اینڈریا اپنے بھائی کو پہلی بار ان کی حقیقی والدہ سے ملانے لے گئیں، یہ ملاقات انتہائی جذباتی ثابت ہوئی، جہاں برسوں کی جدائی کے بعد ملنے والے ماں بیٹے کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہوگئی۔ڈیو نے بتایا کہ انہیں 10 برس کی عمر میں اپنی گود لیے جانے کی حقیقت معلوم ہوگئی تھی، تاہم ان کی پرورش محبت بھرے ماحول میں ہوئی، اس لیے انہوں نے کبھی اپنے اصل خاندان کو تلاش کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔تاہم بعد ازاں ان کی والدہ سوزن کا انتقال ہوگیا، تاہم یہ دونوں بہن بھائی اس بات پر مطمئن ہیں کہ وہ اپنی والدہ کو ان کی زندگی میں دوبارہ ملنے کی خوشی کا موقع دے سکے۔دونوں بہین بھائی اب برطانیہ کے ایک علاقے میں ہنسی خوشی ساتھ رہ رہے ہیں تاکہ برسوں کی جدائی کا خلا کسی حد تک پُر کرسکیں۔ڈیو کا کہنا ہے کہ زندگی میں اصل اہمیت اس بات کی نہیں کہ انسان کے پاس کیا ہے، بلکہ اس بات کی ہے کہ اس کے ساتھ کون ہے، ان کے بقول اپنے خاندان سے دوبارہ ملنا ان کی زندگی کی سب سے بڑی خوش نصیبی اور "لاٹری جیتنے” کے مترادف ہے۔