بڑے کارپوریٹ قرض داروں پر نرمی اور عام لوگوں پر سختی کیوں؟ شیوسینا یو بی ٹی کا مودی حکومت سے سوال

Wait 5 sec.

نئی دہلی: ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا (یو بی ٹی) نے مرکزی حکومت پر بڑے کارپوریٹ قرض نادہندگان کے معاملے میں نرم رویہ اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آخر عام لوگوں اور بڑے صنعت کاروں کے ساتھ دوہرا معیار کیوں اپنایا جا رہا ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ ایک طرف غریب، کسان اور متوسط طبقے کے افراد معمولی قرضوں کی عدم ادائیگی پر سخت کارروائی کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ہزاروں کروڑ روپے کے کارپوریٹ قرض بٹہ کھاتے میں ڈال دیے جاتے ہیں۔پارٹی کے ترجمان ’سامنا‘ کے اداریے میں کہا گیا ہے کہ لوک سبھا میں مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری کی جانب سے دی گئی تحریری معلومات کے مطابق، مالی سال 2014-15 سے 2025-26 کے درمیان سرکاری بینکوں نے ایسے 1249 کھاتوں کے 7.75 لاکھ کروڑ روپے کے غیر وصول شدہ قرض بٹہ کھاتے میں ڈال دیے ہیں، جن میں ہر قرض کی مالیت 100 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ تھی۔اداریے میں کہا گیا ہے کہ اتنی بڑی رقم کے باوجود بینک اب تک صرف 3.10 لاکھ کروڑ روپے ہی وصول کر پائے ہیں، جس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ باقی رقم کی وصولی کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں واضح کیا ہے کہ قرض کو بٹہ کھاتے میں ڈالنا محض ایک تکنیکی اور حسابی عمل ہے اور اس کا مطلب قرض معاف کرنا نہیں ہوتا۔ حکومت کے مطابق، قرض کی وصولی کے لیے قانونی کارروائیاں جاری رہتی ہیں۔تاہم، شیوسینا (یو بی ٹی) نے حکومت کے اس مؤقف کو ’حیران کن اور منافقانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر قرض معاف نہیں کیے گئے تو پھر اتنی بڑی رقم کی وصولی کیوں نہیں ہو سکی؟ پارٹی نے کہا کہ مودی حکومت برسوں سے بینکاری نظام میں مالیاتی نظم و ضبط لانے کے دعوے کرتی رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بڑے قرض نادہندگان کے خلاف مؤثر کارروائی نظر نہیں آتی۔اداریے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ دور میں ’قرض نادہندگی کا امرت کال‘ چل رہا ہے، جہاں بڑے صنعت کار قرض لے کر اس کا معمولی حصہ ادا کرتے ہیں اور باقی رقم واپس کیے بغیر بھی محفوظ رہتے ہیں۔ اس کے برعکس، عام شہری قرض کی قسطیں ادا کرنے کے لیے اپنی بنیادی ضروریات تک محدود کرنے پر مجبور ہیں۔شیوسینا (یو بی ٹی) نے حکومت کی جانب سے بڑے قرض نادہندگان کے نام ظاہر نہ کیے جانے پر بھی اعتراض کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا ایکٹ کی دفعہ 45 ای کے تحت قرض سے متعلق معلومات خفیہ رکھی جاتی ہیں، اس لیے ان ناموں کو عام نہیں کیا جا سکتا۔پارٹی نے سوال کیا کہ جب چھوٹے قرض نادہندگان کے نام عام کیے جا سکتے ہیں اور ان کی جائیدادیں ضبط کی جا سکتی ہیں، تو بڑے صنعت کاروں کو اس طرح کے تحفظات کیوں حاصل ہیں؟ اداریے میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ کیا ایسے قرض نادہندگان کا تعلق حکمراں جماعت کو چندہ دینے والوں سے ہے اور کیا "چندہ دو، قرض معاف کراؤ" جیسی کوئی غیر اعلانیہ پالیسی نافذ ہے؟شیوسینا (یو بی ٹی) نے الزام لگایا کہ صنعتی حلقوں کے دھوکے باز عناصر اور اقتدار میں بیٹھے بعض افراد کی ملی بھگت سے سرکاری بینکوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر بڑے قرض نادہندگان کو اسی طرح تحفظ فراہم کیا جاتا رہا تو عوام کے ٹیکس سے جمع ہونے والی رقم محفوظ نہیں رہ سکے گی۔