آسام میں سیلاب کے سبب جانی و مالی نقصانات: 24 گھنٹوں میں 10 اموات، ہلاکتوں کی تعداد 41 تک پہنچی، 6.53 لاکھ افراد متاثر

Wait 5 sec.

آسام میں سیلاب کی صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔ ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4 بچوں سمیت 10 افراد کی سیلاب کے سبب موت ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں سیلاب کی وجہ سے اموات کی تعداد بڑھ کر 41 ہو گئی ہے۔ جبکہ 3 مرد اور 3 خواتین سمیت 6 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ واضح رہے کہ سیلاب کی وجہ سے ریاست کے 11 اضلاع میں 6.53 لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہیں۔ اے ایس ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق شیو ساگر اور جور ہاٹ ضلع میں تین تین لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ جب کہ چرائیدیو میں 2 اور دھیماجی میں 2 اور کاربی آنگلونگ میں ایک ایک شخص کی موت ہوئی ہے۔ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں کاربی آنگلونگ، گولاگھاٹ، چرائیدیو، کامروپ، شیوساگر، جورہاٹ، ڈبروگڑھ، ناگاؤں، دھیماجی، ہوجائی اور کامروپ (میٹرو) شامل ہیں۔سب سے زیادہ 392195  افراد شیوساگر ضلع میں متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ چرائدیو میں 110755، جورہاٹ میں 97690، گولاگھاٹ میں 25591 اور ڈبروگڑھ میں 13390  افراد سیلاب کی زد میں ہیں۔ ریاست کے 40 ریونیو سرکلوں کے 939  دیہات اب بھی زیرِ آب ہیں۔ مسلسل بارش کی وجہ سے برہم پتر اور اس سے وابستہ ندیوں کی آبی سطح کئی مقامات پر مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ننگلاموراگھاٹ میں دسانگ ندی کی سطحِ آب بلند ترین سیلابی سطح سے اوپر بہہ رہی ہے۔ اسی طرح کھووانگ کے چینیماری میں برہیدی ہنگ ندی، شیوساگر میں دکھاؤ ندی، نومالی گڑھ میں دھنسری (جنوبی) ندی اور شریبھومی (ایف ایف ایس) میں کشیارا ندی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ضلع انتظامیہ کی جانب سے قائم کیے گئے 487 ریلیف کیمپوں اور امدادی تقسیم مراکز میں سیلاب سے متاثرہ 3.13  لاکھ سے زائد افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ اے ایس ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب سے 138965  مویشی بھی متاثر ہوئے ہیں۔ راحت رسانی کی کارروائیوں کے لیے ہندوستانی فوج، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، فائر اینڈ ایمرجنسی سروس (ایف اینڈ ای ایس)، پولیس، سول ڈیفنس اور تربیت یافتہ رضاکار، ہندوستانی فضائیہ اور ڈی ڈی آر ایف کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں تعینات ہیں۔ بدھ کے روز ان ٹیموں نے 8409  افراد کو بحفاظت بچا لیا تھا۔ سیلاب کے اثرات صرف آبادی تک محدود نہیں رہے۔ بدھ کے روز آنے والے سیلاب سے 53  سڑکیں، 6 حفاظتی پشتے اور دیگر سرکاری و نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی سطحِ آب اور موسلا دھار بارش کے درمیان ریاست میں راحت رسانی کی کارروائیاں جنگی پیمانے پر چلائی جا رہی ہیں۔