تہران (23 جولائی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ردعمل میں کہا ہے کہ ہمارادفاعی نظریہ واضح ہے، آنکھ کے بدلے آنکھ، کان کے بدلے کان۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک بار پھر پلوں اور بجلی گھروں پر بمباری کی دھمکی دی ہے، انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنی تازہ پوسٹ میں کہا ’’آج کے بعد اگر اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی بھی دوسرے آلے یا ہتھیار سے حملہ کرتا ہے، تو امریکا تہران کے دارالحکومت میں یا اس کے قریب واقع پلوں یا بجلی گھروں میں سے ایک کو بمباری کرکے تباہ کر دے گا۔‘‘Our defense doctrine is clear: eye for an eye.Any aggression against Iran, including our infrastructure, will compel a powerful and decisive response.Those who contribute to such aggression, whatever the kind of support, will also be considered as legitimate targets.— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 22, 2026اس بیان کے رد عمل میں وزیر خارجہ ایران عباس عراقچی نے کہا اگر ایران کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جارحیت میں شریک یا معاونت فراہم کرنے والے تمام فریق جائز اہداف تصور ہوں گے۔ادھر خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر نے بھی امریکا کی دھمکیوں کے جواب میں کہا ہے کہ ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو علاقائی تیل کی برآمدات روک دیں گے، تیل، گیس، بجلی و دیگر اقتصادی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا، اور ایسی کوئی کارروائی پورے خطے اور خطے سے بھی باہر تنازع کو بڑھا دے گی۔