واشنگٹن/تہران (23 جولائی 2026): امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ایران پر مسلسل بارہویں رات فضائی حملے کیے گئے ہیں، جن میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔سینٹکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کو ناکارہ بنانے کے لیے امریکی فوج نے ایران کے ساحلی نگرانی کے مراکز، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس کو بھی نشانہ بنایا۔ادھر ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے شہر اہواز میں زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی، ماہشہر، سیریک اور سرافان میں بھی متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جنوبی ایران کی بندرگاہ ماہشہر میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جب کہ سرافان میں 6 دھماکے ہونے کی اطلاعات ہیں۔حوثیوں کا 2 سعودی آئل ٹینکروں پر حملہ، سعودی عرب کی تصدیقسرکاری میڈیا کے مطابق ایران میں امریکی حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 53 ہو گئی ہے، جب کہ زخمیوں کی تعداد 592 تک پہنچ گئی، یہ ہلاکتیں 27 جون سے 22 جولائی کے دوران ہونے والے امریکی حملوں کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔تازہ امریکی حملوں میں ہلاکتیں اور نقصانایرانی خبر رساں ایجنسی ایسنا نے صوبہ ہرمزگان کی بندرگاہوں اور بحری انتظامیہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی حملے میں بحریہ کے سرچ اینڈ ریسکیو کے 2 جہاز نشانہ بنے اور انھیں شدید نقصان پہنچا ہے۔ امریکی حملوں میں شلمچہ میں ایک مسافر اسٹیشن کے قریب، عراق کی سرحد سے متصل علاقے میں مقامی حکام کے مطابق کم از کم 2 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے ہیں۔گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایران کے مختلف صوبوں، خصوصاً جنوب مغربی صوبے خوزستان میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ کئی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جن میں رامشیر بھی شامل ہے، جہاں اسفالٹ ذخیرہ کرنے کی ایک تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔ایران کی کویت میں جوابی کارروائیدوسری طرف ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر مزید حملے کیے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکا کے خلاف جوابی اقدام ہیں، نہ کہ کویتی عوام کے خلاف۔ دعوے کے مطابق علی السالم ایئربیس پر فوجی سازوسامان کے ایک بڑے گودام، پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام، اور امریکی MQ-9 ڈرونز کے ایک ہینگر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔پاسداران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے العدیری فوجی بیرکس میں امریکی فوجیوں کی رہائش گاہ اور 2 ہیلی کاپٹر ہینگرز پر حملے کیے، جن کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کو بھاری نقصان پہنچا۔ امریکا کی جانب سے ایران میں مواصلاتی ٹاورز پر حملوں کے جواب میں ایک مواصلاتی ٹاور کو بھی نشانہ بنایا گیا۔کویت کی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایرانی ڈرون حملے کو ناکام بنانے کے لیے ملک کا فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ جنرل اسٹاف نے کہا کہ دھماکوں کی جو آوازیں سنائی دے رہی ہیں، وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے ڈرونز کو مار گرانے کی کارروائی کا نتیجہ ہیں۔