حوثیوں کا 2 سعودی آئل ٹینکروں پر حملہ، سعودی عرب کی تصدیق

Wait 5 sec.

قاہرہ/ریاض (23 جولائی 2026): یمن کے حوثی گروپ نے جمعرات کو دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک فوجی کارروائی میں سعودی عرب کے 2 آئل ٹینکروں پر حملہ کیا ہے۔روئٹرز کے مطابق سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ بحیرۂ احمر میں سفر کے دوران حملے کے بعد ان کے دو میں سے ایک ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی۔سعودی پریس ایجنسی نے جنرل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ایک سرکاری ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ حملے کے نتیجے میں آئل ٹینکر اینسیلیا کے اگلے حصے میں آگ لگ گئی، تاہم جہاز کے تمام عملے کے ارکان محفوظ ہیں۔سعودی عرب کے ٹینکر کو ساحل الشفیق سے تقریباً 70 ناٹیکل میل دور نشانہ بنایا گیا، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشن کے مطابق ایک ٹینکر کے کپتان نے بتایا کہ جہاز کو میزائل لگنے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، عملہ آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔آنکھ کے بدلے آنکھ، کان کے بدلے کان، عباس عراقچییو کے ایم ٹی او کے مطابق حملے میں ابھی کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ سعودی حکام نے اس حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ترجمان حوثی باغی کے مطابق اینسیلیا اور لیلیٰ نامی 2 آئل ٹینکروں کو ممنوعہ بحری راستے سے گزرنے پر نشانہ بنایا گیا ہے، جہازوں نے بحیرۂ احمر میں حوثی گروپ کی جانب سے عائد کردہ بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔ حوثیوں کا کہنا تھا کہ حملوں میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے علاوہ ڈرون بھی استعمال کیے گئے۔ایک سمندری سیکیورٹی ذریعے کے مطابق اینسیلیا نے وی ایچ ایف ریڈیو کے ذریعے ہنگامی پیغام بھیجا تھا کہ بحیرۂ احمر میں سعودی عرب کے شہر جازان کی بیرونی بندرگاہی حدود کے قریب اسے ایک میزائل نے نشانہ بنایا، جس کے باعث جہاز میں آگ لگ گئی۔ برطانوی ادارے وین گارڈ نے کہا کہ حوثیوں نے مبینہ طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔حوثیوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کی کارروائی کے نتیجے میں تقریباً 10 جہازوں کو اپنا سفر روک کر واپس لوٹنا پڑا۔ جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق، بدھ کے روز بحیرۂ احمر میں 5 آئل ٹینکروں نے اپنا راستہ تبدیل کیا، جن میں سے دو نے حوثیوں کی جانب سے جہازوں کو سعودی بندرگاہوں سے دور رہنے کی وارننگ کے بعد نہرِ سویز کو اپنی نئی منزل ظاہر کیا۔