امریکا میں خام تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

Wait 5 sec.

واشنگٹن : مشرقِ وسطیٰ میں ایران سے بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکا کے خام تیل کے ذخائر تشویشناک حد تک کم ہو گئے، جو انتیس سو تیراسی کے بعد کم ترین سطح ہے۔تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی کےدوران امریکا ایک بڑے معاشی بحران کا شکار ہو گیا۔امریکی خام تیل کے مجموعی ذخائر تشویشناک حد تک گر کر گزشتہ 45 سال کی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں، جس نے امریکی انتظامیہ کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔معروف مالیاتی ادارے ‘بینک آف امریکہ’ کی جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا امریکہ کے پاس موجودہ تیل کے ذخائر اب اتنے کم رہ گئے ہیں کہ وہ صرف 43 دن کی ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ تیل کے ذخائر میں اتنی بڑی کمی اس سے قبل 1983ء میں دیکھی گئی تھی، جس کے بعد یہ اب تک کی سب سے خطرناک ترین سطح ہے۔رپورٹ میں کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کی وجہ سے امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو مسلسل شدید دباؤ کا شکار ہے اور خام تیل کا حجم تیزی سے کم ہو رہا ہے، اس وقت امریکہ کے پاس تجارتی خام تیل کے ذخائر صرف 409 ملین بیرل رہ گئے جبکہ اسٹریٹیجک ذخائر گر کر محض 316 ملین بیرل پر آ چکے ہیں۔امریکہ کے پاس کل ذخائر تقریباً 731 ملین بیرل ہیں، جو گزشتہ 45 برسوں میں سب سے کم ترین حجم ہے۔بین الاقوامی دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگی ماحول اور آبنائے ہرمز جیسی اہم ترین آئل سپلائی لائنز پر بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث اگر امریکہ نے اپنے اسٹریٹیجک ذخائر کو فوری طور پر بحال نہ کیا، تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں یکدم آسمان کو چھو سکتی ہیں، جس کا اثر براہِ راست پوری دنیا کی معیشت پر پڑے گا۔