دہلی: کناٹ پلیس کی تمام دکانیں، دفاتر اور ریستوراں شام 6:30 بجے تک بند

Wait 5 sec.

نئی دہلی: دہلی کے اہم تجارتی مرکز کناٹ پلیس میں جمعرات کو تمام دکانیں، تجارتی ادارے، دفاتر اور ریستوراں شام 6:30 بجے تک بند کر دیے گئے۔ انتظامیہ نے اس فیصلے کے لیے علاقے کے اطراف ’سنگین اور حساس صورت حال‘ کا حوالہ دیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ آخر ایسی کون سی صورت حال پیدا ہوئی جس کے باعث پورے تجارتی مرکز کو معمول کے اوقات سے پہلے بند کرنا پڑا۔اس سلسلے میں نئی دہلی ٹریڈرز ایسوسی ایشن (این ڈی ٹی اے) کے صدر اتل بھارگو کی جانب سے ایک ہنگامی ایڈوائزری سرکولر جاری کیا گیا۔ سرکولر کے مطابق نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کی ٹیلی فون پر موصول ہونے والی ہدایات کے بعد کناٹ پلیس کے تمام تجارتی اداروں کو شام 6:30 بجے تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ کناٹ پلیس اور اس کے اطراف کی سنگین اور حساس صورت حال کے پیش نظر 23 جولائی کو تمام دکانیں، تجارتی ادارے، دفاتر اور ریستوراں شام 6:30 بجے تک بند کر دیے جائیں۔ تجارتی اداروں کے مالکان اور منتظمین سے انتظامیہ کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد اور تعاون کی اپیل بھی کی گئی ہے۔ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے بچنا، عوامی تحفظ کو یقینی بنانا اور املاک کو ممکنہ نقصان یا جانی نقصان سے محفوظ رکھنا ہے۔ تاہم، انتظامیہ کی جانب سے اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ کناٹ پلیس کے اطراف ایسی کون سی صورت حال پیدا ہوئی ہے جس کے باعث پورے علاقے کی تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کرنے والا یہ غیر معمولی فیصلہ کرنا پڑا۔انتظامیہ نے شہریوں سے سرکاری ہدایات پر عمل کرنے اور متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کی اپیل کی ہے، لیکن بندش کے پس منظر کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں سے کناٹ پلیس کے قریب واقع جنتر منتر پر نیٹ امتحان کے پرچہ لیک معاملے کو لے کر طلبہ کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ 20 جولائی کو ’پارلیمنٹ چلو‘ مارچ کے دوران طلبہ اور پولیس کے درمیان تصادم کی صورت حال بھی پیدا ہوئی تھی۔ اس دوران پولیس کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولوں کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد علاقے میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے تھے۔کناٹ پلیس اور جنتر منتر کے درمیان واقع علاقے میں گزشتہ چند دنوں کے دوران احتجاجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایسے میں پورے تجارتی مرکز کو وقت سے پہلے بند کیے جانے کے فیصلے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ انتظامیہ نے اس اقدام کی وجوہات کو واضح کرنے سے گریز کیا ہے۔