خطرات کے باوجود بنگلہ دیش واپس لوٹوں گی، جیل یا پھانسی بھی قبول: شیخ حسینہ

Wait 5 sec.

نئی دہلی/ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جیل یا پھانسی کے خطرے کے باوجود اپنے وطن واپس لوٹیں گی اور عدالت میں پیش ہوں گی۔ انہوں نے اپنے خلاف درج مقدمات اور سنائی گئی سزا کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں تمام ممکنہ خطرات کا علم ہے، لیکن وہ انصاف کے عمل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔78 سالہ شیخ حسینہ نے جاپانی خبر رساں ایجنسی کیوڈو نیوز کو ایک تحریری انٹرویو میں کہا کہ وہ بنگلہ دیش واپس جائیں گی اور عدالت میں پیش ہوں گی۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس عدالت میں پیش ہوں گی۔انہوں نے موجودہ بنگلہ دیشی حکومت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جیل بھیجا جا سکتا ہے اور یہاں تک کہ انہیں پھانسی دینے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے، لیکن وہ ان خطرات سے خوف زدہ نہیں ہیں۔شیخ حسینہ نے 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کے حوالے سے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا اور سیاسی مخالفین نے اس تحریک کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر غیر جانبدار بین الاقوامی فرانزک ماہرین ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کریں تو یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ہر شخص کی موت کن حالات میں اور کس ہتھیار یا گولی سے ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ایک مستحکم بنگلہ دیش نہ صرف ملک کے عوام بلکہ پورے جنوبی ایشیا، خلیج بنگال اور ان ترقیاتی شراکت داروں کے لیے بھی ضروری ہے جنہوں نے بنگلہ دیش کی ترقی میں سرمایہ کاری کی ہے۔ ان کے مطابق ملک کو صحت یاب ہونے اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، تاہم مفاہمت کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جرائم کے ذمہ دار افراد کو قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہو جائے۔واضح رہے کہ اگست 2024 میں سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کے نظام کے خلاف شروع ہونے والے طلبہ کے احتجاج کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کے دوران شیخ حسینہ بنگلہ دیش چھوڑ کر ہندوستان آ گئی تھیں اور تب سے یہیں مقیم ہیں۔ بعد ازاں نومبر 2025 میں بنگلہ دیش کے جنگی جرائم کے خصوصی ٹریبونل نے 2024 کے احتجاج کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں ان کی غیر موجودگی میں سماعت کرتے ہوئے انہیں سزائے موت سنائی تھی۔بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے شیخ حسینہ کے حوالگی کے لیے ہندوستان سے باضابطہ درخواست بھی کی ہے۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ اس بات کی تصدیق کر چکی ہے کہ اسے یہ درخواست موصول ہو چکی ہے اور وہ اس کے قانونی اور عدالتی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔اس ماہ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان کے اطلاعاتی مشیر نے بھی کہا تھا کہ حکومت شیخ حسینہ کو مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے اور انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے گا۔ ایسے میں شیخ حسینہ کا تازہ بیان ان کی ممکنہ واپسی سے متعلق قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دے رہا ہے۔