طلبہ پر کارروائی کے خلاف کانگریس کا پی ایم ہاؤس پر دھرنا، راہل-پرینکا سمیت اپوزیشن کے کئی سرکردہ رہنما حراست کے بعد مختلف مقامات پر منتقل

Wait 5 sec.

نئی دہلی: طلبہ پر پولیس کارروائی، پیپر لیک کے معاملات اور تعلیمی نظام سے متعلق اپوزیشن کے مطالبات کو لے کر کانگریس نے منگل کو وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ (پی ایم ہاؤس) کے قریب بڑا احتجاجی دھرنا دیا۔ احتجاج کے دوران لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو سمیت اپوزیشن کے متعدد سرکردہ رہنماؤں کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا اور بعد میں انہیں مختلف مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی قیادت میں کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ اور سینئر رہنماؤں نے وزیراعظم کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کیا اور وہاں دھرنا دیا۔ احتجاج میں کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں کے علاوہ مختلف اپوزیشن جماعتوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ احتجاج کے دوران کئی رہنماؤں نے علامتی طور پر ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہن کر حکومت کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا۔کانگریس نے اس احتجاج کے دوران مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔ پارٹی کا الزام ہے کہ طلبہ پر لاٹھی چارج اور کارروائیوں کے لیے حکومت کو سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔اس سے قبل راہل گاندھی نے پرینکا گاندھی اور کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال کے ساتھ رام منوہر لوہیا اسپتال پہنچ کر احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے طلبہ سے ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ملک کے نوجوان تباہ حال تعلیمی اور امتحانی نظام کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں، لیکن ان کے مطالبات سننے کے بجائے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہو چکے ہیں اور مسابقتی امتحانات ان کے مستقبل کی امید ہیں، لیکن پیپر لیک کے مسلسل واقعات نے لاکھوں طلبہ کے خوابوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے طلبہ سے معافی مانگنے اور ان کے خلاف بربریت کو روکنے کا مطالبہ کیا۔راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پُرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر بہیمانہ لاٹھی چارج کیا گیا اور اپوزیشن کو اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بات کرنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہوگی تو پھر جمہوریت کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟پرینکا گاندھی واڈرا نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں سے حکومت ہر مسئلے کا جواب دمن سے دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین قرض لے کر اپنے بچوں کو کوچنگ اداروں میں تعلیم دلواتے ہیں، نوجوان برسوں محنت کرتے ہیں، لیکن پیپر لیک کی وجہ سے ان کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی نوجوانوں، غریبوں اور کسانوں کے مسائل کے تئیں سنجیدہ نہیں ہیں۔احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، اکھلیش یادو اور متعدد اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ راہل گاندھی کو زبردستی احتجاجی مقام سے ہٹایا گیا۔ بعد ازاں پارٹی نے ان کی تصاویر اور ویڈیوز بھی جاری کیں، جن میں انہیں پولیس اہلکاروں کے درمیان لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔حراست میں لیے جانے کے بعد راہل گاندھی نے کہا، ’’مودی جی! ہر زور آزما لیجیے، ساری طاقت لگا لیجیے، طلبہ کے انصاف کی یہ لڑائی اب نہیں رکے گی۔‘‘کانگریس کے مطابق پرینکا گاندھی کو مندر مارگ پولیس اسٹیشن، راہل گاندھی کو چھترسال اسٹیڈیم جبکہ دیگر اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو کنگزوے کیمپ منتقل کیا گیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن طلبہ کے مستقبل اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے پر اس کی جدوجہد جاری رہے گی۔کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں نے واضح کیا ہے کہ وہ پیپر لیک، طلبہ کے حقوق اور تعلیمی نظام میں شفافیت کے مطالبے پر اپنی سیاسی اور پارلیمانی لڑائی جاری رکھیں گی۔