بنگلورو: کرناٹک حکومت نے دلت تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کے بعد یونیورسٹیوں اور مختلف سرکاری محکموں میں ریزرویشن کے تحت خالی پڑی بیک لاگ آسامیوں کو پُر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ اور وزیرِ محصولات جی. پرمیشور نے کہا ہے کہ حکومت درج فہرست ذات (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے امیدواروں کو قانون کے مطابق ریزرویشن کا مکمل فائدہ دلانے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔ودھان سودھا میں منعقدہ میٹنگ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جی. پرمیشور نے بتایا کہ ریاستی حکومت پہلے ہی مختلف محکموں میں 72 ہزار اسامیوں پر تقرری کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں اور بڑے سرکاری محکموں میں برسوں سے خالی پڑی ریزرو آسامیوں کو بھی جلد پُر کیا جائے گا اور اس سلسلے میں وہ وزیر اعلیٰ سے بات کریں گے۔میٹنگ کے دوران دلت تنظیموں نے طلبہ کے وظیفوں، فلاحی اسکیموں کے نفاذ، زمین کی تقسیم، روزگار کے مواقع اور ایس سی-ایس ٹی طبقوں کے ساتھ مبینہ ناانصافی سمیت متعدد اہم مسائل اٹھائے۔ نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت طلبہ کے لیے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ میں اضافے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ فی الحال طلبہ کو 1800 روپے ماہانہ ملتے ہیں، جبکہ ان کے اخراجات تقریباً 3000 روپے تک پہنچ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ وظیفہ طلبہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے اور آئندہ بجٹ میں اس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ حکومت اس معاملے پر وزیر اعلیٰ سے مشاورت کرے گی۔جی. پرمیشور نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو شکایات موصول ہوئی ہیں کہ دلت برادری کی کئی خواتین ریاستی حکومت کی گارنٹی اسکیموں سے مکمل طور پر مستفید نہیں ہو پا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں ضلع اور تعلقہ سطح پر معلومات جمع کی جائیں گی اور جہاں ضرورت ہوگی وہاں اصلاحی اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ خانہ بدوش اور آدیواسی برادریوں نے محکمہ جنگلات کے افسران کی جانب سے مبینہ ہراسانی کے معاملات بھی اٹھائے ہیں، جن کی جانچ کرائی جائے گی۔ حکومت ایس سی-ایس ٹی سب پلان اور قبائلی سب پلان کے مؤثر نفاذ پر بھی غور کرے گی۔میٹنگ میں صنعتی زمینوں کی تقسیم، رہائشی پلاٹوں کی فراہمی اور کرناٹک اسٹیٹ فنانشل کارپوریشن کے ذریعے قرضوں تک آسان رسائی کے مطالبات بھی پیش کیے گئے۔نائب وزیر اعلیٰ نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ محصولات نے اس الزام کی جانچ کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے کہ ایس سی-ایس ٹی برادری کی تقریباً 150 ایکڑ زمین روحانی رہنما شری شری روی شنکر کے زیرِ کنٹرول ہے۔ اس معاملے کی جانچ بنگلورو کے ڈویژنل کمشنر آدتیہ املان بسواس کی سربراہی میں کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آدیواسی برادری کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے خصوصی تقرری کے امکانات پر بھی غور کر رہی ہے۔ اس وقت 12 پی ایچ ڈی یافتہ آدیواسی نوجوان بے روزگار ہیں اور ان کے لیے خصوصی مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔