لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے پیر (20 جولائی) کو احتجاجی طلبہ پر لاٹھی چارج کیے جانے کے معاملہ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی اور بنیادی حق ہے، جسے طاقت کے استعمال سے دبایا نہیں جا سکتا۔‘‘ انہوں نے پولیس افسران اور سرکاری ملازمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ہندوستان کے آئین کو مقدم رکھیں، کیونکہ اقتدار ہمیشہ قائم نہیں رہتا لیکن قانون کے سامنے جوابدہی ایک ناگزیر حقیقت ہے۔शांतिपूर्ण विरोध एक अटूट और मौलिक अधिकार है। भारत के निर्दोष छात्रों पर हमला करने के आदेशों का आँखें बंद करके पालन करने वाले हर पुलिस अधिकारी और सरकारी कर्मचारी ये बात ध्यान रखें: संविधान ही आपका मालिक है।सत्ता हमेशा के लिए नहीं रहती।जवाबदेही ज़रूर तय की जाएगी।Peaceful…— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) July 20, 2026راہل گاندھی نے پیر کی رات اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر مظاہرین طلبہ کے حق میں ایک پوسٹ کی۔ انہوں نے لکھا کہ پرامن احتجاج ایک اٹوٹ اور بنیادی حق ہے۔ ہندوستان کے معصوم طلبہ پر حملہ کرنے کے احکامات پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنے والے ہر پولیس افسر اور سرکاری ملازم یہ بات یاد رکھیں:آئین ہی آپ کا مالک ہے۔اقتدار ہمیشہ کے لیے نہیں رہتا۔جوابدہی ضرور طے کی جائے گی۔इस देश के युवाओं पर ढाए गए अन्यायों की लंबी सूची में कल का यह शर्मनाक अध्याय भी जोड़ दीजिए - जब सत्ता के इशारे पर इस देश के बेटे-बेटियों पर ज़ुल्म और दमन किया गया।लेकिन आज जो सत्ता के आदेश पर देश के युवाओं को पीट रहे थे, उन्हें कल संविधान की लाठी का सामना करना होगा। https://t.co/wMRMIdnbHK— Pawan Khera ಪವನ್ ಖೇರಾ (@Pawankhera) July 21, 2026کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن پون کھیڑا نے راہل گاندھی کی مذکورہ ’ایکس‘ پوسٹ پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’اس ملک کے نوجوانوں پر ڈھائے گئے مظالم کی طویل فہرست میں کل کا یہ شرمناک باب بھی شامل کر لیجیے، جب اقتدار کے اشارے پر اس ملک کے بیٹوں اور بیٹیوں پر ظلم و ستم اور تشدد کیا گیا۔ لیکن آج جو اقتدار کے حکم پر ملک کے نوجوانوں کو پیٹ رہے تھے، کل انہیں آئین کی لاٹھی کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘भाजपा सरकार को बच्चों पर लाठी चलाने की जगह अपनी नीतियों और अक्षमताओं की समीक्षा करनी चाहिए। पहले NEET का पेपर लीक हुआ, परीक्षा रद्द हुई और Re-NEET में भी गड़बड़ी की खबरें आई हैं। कहा गया था कि प्रधानमंत्री खुद निगरानी करेंगे, इसके बावजूद यह सब क्यों और कैसे हो रहा है? बार-बार… pic.twitter.com/TuXIzO4s9Z— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) July 20, 2026کانگریس کی جنرل سکریٹری اور وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے بھی طلبہ پر لاٹھی چارج کے معاملے پر حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’بی جے پی حکومت کو بچوں پر لاٹھی چلانے کے بجائے اپنی پالیسیوں اور نااہلیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ پہلے نیٹ کا پیپر لیک ہوا، امتحان منسوخ ہوا اور ری-نیٹ میں بھی بے ضابطگیوں کی خبریں آئی ہیں۔ کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم خود نگرانی کریں گے، اس کے باوجود یہ سب کیوں اور کیسے ہو رہا ہے؟ بار بار اتنے پیپر لیک کیسے ہو رہے ہیں؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’پارلیمنٹ میں اس مسئلے پر تفصیلی بحث ہونی چاہیے اور وزیر اعظم کو ملک کے کروڑوں نوجوانوں کی بات سننی چاہیے، انہیں جواب دینا چاہیے۔‘‘