وزیر اعظم نریندر مودی اور کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پون کھیڑا سمیت دیگر سرکردہ رہنماؤں نے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے کو ان کی سالگرہ پر مبارکباد پیش کی ہے۔ دوسری جانب ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک طویل پوسٹ کے ذریعہ اپنی سالگرہ نہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ اپنی پوسٹ میں کانگریس رہنما لکھتے ہیں کہ ’’کل ملک نے پُرامن جمہوری احتجاج کو لاٹھی چارج، آنسو گیس کے گولوں اور حکومتی طاقت کے ذریعے کچلتے ہوئے دیکھا۔ انصاف کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کی آوازوں کا جواب دلائل سے نہیں بلکہ طاقت کے استعمال سے دیا گیا۔ یہ وہ طریقہ نہیں ہے جس سے کوئی ’جمہوریت کی ماں‘ اپنے نوجوان بچوں کے ساتھ پیش آئے۔‘‘Yesterday, the nation witnessed lathicharges, tear gas shells, and the crushing of a peaceful Democratic protest by the Government. The voices of students demanding justice were met with force instead of answers. This is not how a 'Mother of Democracy' treats its young children.…— Mallikarjun Kharge (@kharge) July 21, 2026ملکارجن کھڑگے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’ان دردناک حالات کے پیش نظر میں نے آج اپنی سالگرہ نہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں کانگریس کے تمام رہنماؤں، کارکنان، حامیوں، خیر خواہوں اور ہر اس شہری کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جس نے مجھے سالگرہ کی مبارکباد اور نیک تمنائیں پیش کیں۔ آپ کی محبت میرے لیے بے حد قیمتی ہے اور میں دل کی گہرائیوں سے آپ سب کا ممنون ہوں۔ لیکن آج جشن منانے کا دن نہیں، بلکہ جوابدہی کا مطالبہ کرنے اور جمہوریت کی بحالی کی آواز بلند کرنے کا دن ہے۔‘‘کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے حکومت سے کئی سخت سوالات کیے۔ انہوں نے پوچھا کہ ’’انصاف کا مطالبہ کرنے والے طلبہ پر بے رحمانہ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیوں کیا گیا؟ پارلیمنٹ کو عملی طور پر کیوں سیل کیا گیا اور انٹرنیٹ کیوں بند کیا گیا؟ بار بار ہونے والے پیپر لیک اور لاکھوں نوجوانوں کی تکالیف کی ذمہ داری کون لے گا؟‘‘راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے مرکزی حکومت سے 5 اہم مطالبات کیے۔حکومت فوری طور پر اس معاملے پر پارلیمنٹ میں مکمل بحث کرائے۔مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اس معاملے کی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیں۔اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق طلبہ دوست امتحانی نظام لایا جائے، جس میں محفوظ ڈیجیٹل سوالاتی بینک اور رینڈمائزڈ پرچے شامل ہوں۔تعلیم پر زیادہ اخراجات کے ساتھ ایک آزاد، میرٹ پر مبنی تعلیمی نظام قائم کیا جائے، جو آر ایس ایس کی سیاسی مداخلت سے پاک ہو۔امتحانات میں بے ضابطگی کی صورت میں طلبہ کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے، جس کے تحت لازمی طور پر دوبارہ امتحان منعقد ہوں اور متاثرہ طلبہ کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔اپنی پوسٹ کے آخر میں کانگریس صدر لکھتے ہیں کہ ’’ہمارے بچے انصاف کے مستحق ہیں، ظلم و ستم کے نہیں۔‘‘