حوثیوں کے سمندری ناکہ بندی کے فیصلے پر سعودی عرب کا پہلا ردعمل آگیا

Wait 5 sec.

ریاض(21 جولائی 2026): سعودی عرب نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے مملکت کی سمندری ناکہ بندی کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے سخت اور بھرپور جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔سعودی قیادت میں قائم عرب فوجی اتحاد نے واضح کیا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری ناکہ بندی اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کا جواب طاقت سے دیا جائے گا۔اتحادی افواج کے سربراہ اور ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ باب المندب کی اہم بحری شاہراہ میں تجارتی اور بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سخت اور غیر معمولی اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے حوثیوں کے اس دعوے کو سراسر گمراہ کن قرار دیا جس میں یمنی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی بندش کی بات کی گئی تھی۔یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کیخلاف بحری ناکہ بندی کر دیدوسری جانب سعودی وزارتِ خارجہ نے حوثی تنظیم کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دہرایا ہے کہ مملکتِ سعودی عرب یمن کی قانونی اور تسلیم شدہ حکومت اور یمنی عوام کی حمایت بلا تعطل جاری رکھے گی اور خطے کی بحری سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔