برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی برنہیم نے پیر کے روز اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔ اس موقع کی مناسبت سے وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں نئی ذمہ داری کے لیے مبارکباد دی۔ وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’’برطانیہ کے وزیراعظم کی حیثیت سے عہدہ سنبھالنے پر اینڈی برنہیم کو دلی مبارکباد۔ ہندوستان اور برطانیہ مشترکہ جمہوری اقدار سے جڑے ہوئے ہیں اور تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، دفاع اور عوامی روابط کے شعبوں میں وسیع تعاون کرتے ہیں۔ اس ماہ سی ای ٹی اے کے نافذ ہونے سے ہماری دوطرفہ شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔‘‘ وزیراعظم مودی نے کہا کہ وہ ہندوستان اور برطانیہ کی جامع شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے اور مشترکہ ویژن-2035 کو آگے بڑھانے کے لیے برنہیم کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہش مند ہیں۔Warmest congratulations to Mr. Andy Burnham on assuming office as Prime Minister of the United Kingdom.India and the UK are bound by shared democratic values and enjoy wide-ranging cooperation across trade, investment, technology, defence and people-to-people relations. With…— Narendra Modi (@narendramodi) July 21, 2026دوسری جانب عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں برنہیم نے ملک میں سیاسی استحکام بحال کرنے اور نظامِ حکومت میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں لانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بار بار وزیراعظم تبدیل ہونے سے عوام کا سیاست پر سے اعتماد کمزور ہوا ہے اور اب لیڈران کو بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ بکنگھم پیلس سے واپس آنے کے بعد ’10 ڈاؤننگ اسٹریٹ‘ کے باہر اپنے پہلے خطاب میں برنہیم نے کہا کہ ’’میں پوری طرح محسوس کرتا ہوں کہ گزشتہ 10 برسوں میں اقتدار کے اس ایوان میں حکومت بنانے کے لیے آنے والا میں چھٹا شخص ہوں اور 2016 کے بعد ساتواں وزیراعظم ہوں۔ یہ خود احتسابی اور نئے عزم کا وقت ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان کی نسل کے لیڈران کو اپنی ذمہ داریاں بہتر طریقے سے نبھانی ہوں گی۔’سیاست دانوں کو اب بہتر کارکردگی دکھانی ہوگی‘، نو منتخب برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہیم کا اہم پیغامبرنہیم نے کہا کہ ’’برطانیہ کو دنیا کو دکھانا چاہیے کہ ہم سیاسی استحکام دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ کیوں کہ لوگ سیاست سے مایوس ہو چکے تھے۔ میں ان لوگوں کی بات سنتا ہوں اور ایمانداری سے قبول کرتا ہوں کہ ہم اتنا اچھا کام نہیں کرسکے، جس قدر ہمیں کام کرنا چاہہئے تھا۔ اب ہمیں بہتر کارکردگی انجام دینی ہوگی۔ انہوں نے اپنی حکومت کو برطانیہ کے لیے ’سرکٹ بریکر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت ملک میں گزشتہ 40 برس کی سب سے بڑی تبدیلیاں نافذ کرے گی۔ ان کے مطابق برطانیہ کو ایک نئے سیاسی اور معاشی ماڈل کی ضرورت ہے۔1980 کی دہائی کا ذکر کرتے ہوئے برنہیم نے کہا کہ ’’اس دور میں کیے گئے بعض فیصلوں کے نتیجے میں سیاسی اختیارات کا حد سے زیادہ ارتکاز ہوا، معاشی کنٹرول کی نجکاری ہوئی اور ملک کے کئی صنعتی علاقوں کا زوال واقع ہوا۔ اس کے باعث متعدد علاقے آج بھی پسماندگی کا شکار ہیں۔‘‘