’ملک انارکی کی طرف بڑھ رہا ہے، ایوان میں بولنے نہیں دیا جا رہا‘، نیٹ احتجاج پر کھڑگے نے حکومت کو بنایا ہدف تنقید

Wait 5 sec.

نیٹ امتحان اور پیپر لیک کے مسئلے پر سیاسی گھماسان جاری ہے۔ جنتر منتر پر جاری طلبہ کے احتجاج اور پارلیمنٹ مارچ کی تیاریوں کے درمیان اپوزیشن بھی جارحانہ انداز اختیار کر چکا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے مانسون سیشن کے دوسرے دن بھی اس مسئلے کو لے کر پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج کیا۔ دونوں ایوانوں میں اس مسئلے پر ہنگامے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی 10 منٹ بھی نہ چل سکی اور 12 بجے تک کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے ایوان میں دوسرے دن بھی یہ مسئلہ اٹھایا۔ ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ کل ایک واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ہمارے جو طلبہ پیپر لیک اور نیٹ امتحان کو لے کر آواز اٹھا رہے ہیں، ان پر لاٹھی چارج کیا گیا، آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور انہیں مارا پیٹا گیا۔ کھڑگے نے کہا کہ آج کئی طلبہ اسپتالوں میں داخل ہیں، ان کی بات سنی جانی چاہیے۔कल प्रदर्शन कर रहे बच्चों पर लाठीचार्ज किया गया, जिससे बहुत सारे छात्र अस्पताल में भर्ती हैं।हम इस अन्याय और अत्याचार के खिलाफ सरकार से सदन में चर्चा करना चाहते थे, लेकिन एक शब्द बोलते ही माइक बंद कर दिया गया।क्या ये लोकतंत्र है? अगर लोकतंत्र में सरकार हमारी बात ही नहीं सुनना… pic.twitter.com/gfalQ0s7Vi— Congress (@INCIndia) July 21, 2026ایوان کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ایوان میں بولنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بحث کرنے کا موقع دیا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس بات پر گفتگو ہو کہ آخر طلبہ پر لاٹھی چارج کیوں کیا گیا؟ حکومت خود اکسا رہی ہے تاکہ ملک میں انارکی پیدا ہو اور پھر لاٹھی چارج کیا جائے، مارا پیٹا جائے اور ڈرا دھمکا کر انہیں جیل میں ڈال دیا جائے۔ کھڑگے نے کہا کہ یہ انارکی عوام یا اپوزیشن نہیں، بلکہ خود حکومت پھیلا رہی ہے۔ملکارجن کھڑگے نے الزام عائد کیا کہ کل اراکین پارلیمنٹ کو جیل کی طرح اندر بند رکھا گیا۔ جب اراکین پارلیمنٹ ہی محفوظ نہیں ہیں، تو پھر کون محفوظ ہے؟ ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اس دعوے پر کہ ’حکومت نوجوانوں کے ساتھ ہے‘ کھڑگے نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں کے ساتھ ہے لیکن صرف لاٹھی چارج کرنے، بچیوں کے کپڑے پھاڑنے اور طعنے مارنے کے لیے ساتھ ہے۔کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے پارلیمنٹ میں اسٹوڈنٹ پروٹسٹ، نیٹ امتحان اور پیپر لیک کے مسئلے پر تفصیلی بحث کا مطالبہ کیا۔ دوسری طرف، لوک سبھا میں راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کے وفد نے اسپیکر اوم برلا سے بھی ملاقات کی ہے۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے یہ ملاقات اسپیکر کے چیمبر میں کی۔ بتایا جاتا ہے کہ اپوزیشن اراکین نے نیٹ پر بحث کا مطالبہ اسپیکر کے سامنے رکھا ہے۔