واشنگٹن (21 جولائی 2026): ایران کے خطے میں امریکی تنصیبات پر تابڑ توڑ حملوں کے نتیجے میں کئی امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حملوں میں امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ 7 جولائی سے اب تک تقریباً 100 امریکی فوجی اہلکار کسی نہ کسی درجے میں زخمی ہوئے ہیں۔تاہم پینٹاگون کا کہنا ہے کہ 2 ہفتوں سے جاری ایران جنگ میں زخمی ہونے والے فوجیوں میں زیادہ تر کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔ سی این این نے رپورٹ کیا کہ ایران جنگ کے دوران امریکی فوج اپنے زخمی اہلکاروں کی معلومات ظاہر کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ایران کا خطے میں امریکی ریڈار نگرانی پر بڑے وار کا دعویٰامریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے رپورٹ کیا کہ یہ فوجی مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر ہونے والے ایرانی حملوں میں زخمی ہوئے، ترجمان پینٹاگان شان پارنیل کے مطابق 96 فی صد فوجی اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں اور دوبارہ لڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ 28 فروری سے اب تک 14 امریکی فوجی ہلاک اور 400 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع نے اردن میں 2 ہلاک اہلکاروں کی شناخت فرسٹ لیفٹیننٹ ٹائلر جیمز فیہان اور پرائیوٹ ازابیلا گونزالیز کے طور پر کی ہے۔ ایک اور امریکی فوجی شمالی عراق میں ایرانی ڈرون کے غیر پھٹے ہوئے بارودی مواد کو ناکارہ بناتے ہوئے ہلاک ہوا۔واضح رہے کہ مسلسل دسویں رات امریکی فوج کے ایران پر حملے جاری ہیں، امریکی فوج نے پیر کی رات ایران پر مزید حملے کیے، یہ کارروائیاں اُس کے چند گھنٹے بعد ہوئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ گزشتہ چند روز کے دوران تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا ایران کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔