جگدیپ دھنکھڑ کو جبراً استعفیٰ دینے پر کیا گیا تھا مجبور: جے رام رمیش

Wait 5 sec.

ہندوستان کے سابق نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ کو آج ہی کے دن 21 جولائی 2025 کو مدت کار مکمل ہونے سے پہلے ہی ہٹا دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ 11 اگست 2022 کو جگدیپ دھنکھڑ نائب صدر جمہوریہ کے عہدے پر فائز کیے گئے تھے۔ کانگریس نے سابق نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکھڑ کے استعفے کو لے کر ایک بار پھر مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’ایک برس قبل جگدیپ دھنکھڑ کو جبراً استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ انتہا تو یہ ہے کہ جگدیپ دھنکھڑ کو راجیہ سبھا کے اراکین کی جانب سے باضابطہ الوداعی تقریب دینے کا رسمی تقاضا بھی پورا نہیں کیا گیا۔‘‘आज ही के दिन ठीक एक वर्ष पहले भारत के तत्कालीन उपराष्ट्रपति और राज्यसभा के सभापति को अपने पाँच वर्ष के कार्यकाल के केवल तीन वर्ष पूरे होने के बाद ही जबरन इस्तीफा देने पर मजबूर कर दिया गया था। प्रधानमंत्री ने बड़े धूमधाम के साथ उनकी नियुक्ति की थी, लेकिन उन्हें अचानक पद छोड़ने के…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) July 21, 2026جے رام رمیش نے الزام لگایا ہے کہ ’’جگدیپ دھنکھڑ کو اچانک عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، کیونکہ وہ مسلسل کسانوں کی بدحالی اور ان کی مشکلات پر افسوس کا اظہار کر رہے تھے۔ ساتھ ہی کسانوں کے تئیں مودی حکومت کی حیران کن بے حسی پر بھی سوال اٹھا رہے تھے۔ کانگریس لیڈر نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’آج ہی کے دن ٹھیک ایک برس قبل اس وقت کے سابق نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین کو 5 سالہ مدتِ کار میں سے صرف 3 برس مکمل ہونے کے بعد ہی استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’وزیراعظم مودی بڑے دھوم دھام سے انہیں نائب صدر جمہوریہ کے عہدے پر لائے تھے۔‘‘ لیکن دھنکھڑ کو کسانوں کی حالت زار اور دشواریوں پر بار بار غصے کے اظہار اور ان کے تئیں مودی حکومت کی حیران کن بے حسی کی وجہ سے اچانک استعفیٰ دینا پڑا۔جے رام رمیش نے موجودہ منظر نامے کے تناظر میں کہا کہ ’’یہی بے حسی اور لاتعلقی آج بھی لاکھوں طلبہ اور نوجوانوں کے تئیں برقرار ہے، جس کے سبب سنگین خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ گزشتہ سال پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران 21 جولائی کو اُس وقت کے نائب صدر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے اپنے عہدے سے فوری اثر کے ساتھ استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے صدر دروپدی مرمو کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں صحت سے متعلق وجوہات اور ڈاکٹروں کے مشورے کا حوالہ دیا تھا۔ جبکہ کانگریس کا کہنا ہے کہ دھنکھڑ کو کسانوں کے مسائل پر ان کے دوٹوک مؤقف کی وجہ سے ہٹایا گیا، جبکہ حکومت کی جانب سے ان کے استعفے کی وجہ صحت سے متعلق مسائل ہی بتائی گئی تھی۔