باب المندب کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

Wait 5 sec.

صنعا (21 جولائی 2026): باب المندب یمن اور افریقہ کے درمیان واقع ایک انتہائی اہم اور تنگ سمندری گزرگاہ ہے، جو 32 کلو میٹر چوڑا مگر مصروف ترین تجارتی راستہ ہے۔باب المندب جزیرۂ عرب کے جنوبی سرے پر واقع ہے اور جس کے نام کا مطلب عربی میں ’’آنسوؤں کا دروازہ‘‘ ہے، یہ بحیرۂ احمر کا مرکزی بحری راستہ ہے، اور عالمی کنٹینر تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اس آبنائے سے گزر کر نہرِ سویز تک پہنچتا ہے یا وہاں سے واپس آتا ہے۔دنیا کی تقریباً 12 فیصد عالمی تجارت روزانہ اسی راستے سے گزرتی ہے، اگر یہ بحری گزر گاہ متاثر ہو جائے تو جہازوں کو افریقہ کا چکر لگا کر جانا پڑتا ہے، جس سے سامان کی ترسیل میں 10 سے 14 دن کی اضافی تاخیر ہو جاتی ہے۔یہ بحیرہ احمر کو خلیجِ عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے، عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے یہ راستہ دنیا کی مصروف ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ بتیس کلو میٹر یعنی بیس میل چوڑی آبنائے باب المندب بحر ہند سے بحیرۂ احمر میں داخل ہونے کا واحد راستہ ہے، جو نہرِ سویز کے ذریعے بحیرۂ روم سے منسلک ہوتی ہے۔حوثیوں کے سمندری ناکہ بندی کے فیصلے پر سعودی عرب کا پہلا ردعمل آگیاباب المندب کی مکمل بندش عالمی تیل کی سپلائی میں 7 فی صد کمی کا سبب بن سکتی ہے، کیوں کہ اس سے سعودی عرب کی زیادہ تر تیل برآمدات خطے سے باہر نہیں نکل سکیں گی۔اگر یہ آبی گزرگاہ بند ہو جائے تو بحری جہازوں کو کیپ آف گڈ ہوپ کے گرد گھوم کر کہیں زیادہ طویل راستہ اختیار کرنا پڑے گا، جس سے ایشیا اور یورپ کے درمیان سفر کا دورانیہ 2 سے 3 ہفتے بڑھ جائے گا اور بحری نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔